فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 48

کے ساتھ رکھتے ہوں۔۴۸ اسلامی عبادات اور مسجد میں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو لڑائیوں کے فیصلے بھی مسجد میں ہوتے تھے، قضاء بھی وہیں ہوتی تھی تعلیم بھی وہیں ہوتی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد صرف اللہ اللہ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے کام بھی جو قومی ضرورتوں سے تعلق رکھتے ہیں مساجد میں کئے جاسکتے ہیں۔( تفسیر کبیر۔جلد ششم، سوره حج صفحه ۲۸،۲۷ زیر آیت وَطَهَّرُ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ) مسجد کے ساتھ کاحُجرہ مسجد کاحصه نهیں هوتا میں جب عرب ممالک میں گیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ ایک مسجد کی ایک جہت میں ایک حجرہ بنا ہوا تھا۔اور اس کے اردگرد کٹہرا لگا ہوا تھا میں نے بعض لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پرانے زمانہ میں جب بادشاہ آتے تھے تو وہ اس حجرہ میں نماز پڑھا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ایک دفعہ کوئی بادشاہ آیا اور اس کے ساتھ ہی ایک جھاڑو دینے والا بیٹھ گیا۔اس کے نوکروں نے اسے ہٹانا چاہا تو سب مسلمان اور قاضی پیچھے پڑگئے اور انہوں نے کہا یہ خدا کی مسجد ہے۔یہاں چھوٹے اور بڑے کا کوئی سوال نہیں۔مسجد میں اگر بڑے سے بڑا آدمی بھی بیٹھا ہو تو اس کے ساتھ اُس دن کا نو مسلم جو خاکروبوں یا سائنسیوں میں سے آیا ہو کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔چاہے وہ بڑا آدمی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔چنانچہ اس کو نہ اُٹھایا مگر بادشاہ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے جگہ بدل کر پیچھے کی طرف اپنے لئے تجرہ بنوالیا۔میں نے جب یہ واقعہ سُنا تو اپنے دل میں کہا کہ اسلام کے ایک حکم کی بے حرمتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آئندہ اس سے مسجد میں نماز پڑھنے کی توفیق ہی چھین لی کیونکہ جس جگہ حجرہ بنایا گیا تھا وہ مسجد کا حصہ نہیں تھا۔( تفسیر کبیر جلد ششم - تفسیر سوره حج صفحه ۲۴۲۵)