فرموداتِ مصلح موعود — Page 421
۴۲۱ ضمیمه کے قریب انسان نہ پہنچ جائے روزہ نہ چھوڑے بلکہ یہ الفاظ بڑھاپے اور عام ضعف کے متعلق ہیں یعنی جب انسان بیمار نہیں بلکہ مثل بیمار ہوتا ہے۔نفقہ کے ذریعہ پہلے مسلمانوں نے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض امور کا فیصلہ کیا ہے۔قرآن کریم میں صرف بیمار یا مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ تفقہ سے آپ نے ان کو بھی بیمار کی حد میں داخل کر دیا اور اس طرح جو شخص بمنزلہ بیمار کے ہوا سے بھی اجازت دے دی اور اس کے ماتحت یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان جب بوڑھا ہو جائے یا کمزور ہو تو اس وقت بھی وہ بیمار ہی سمجھا جائے گا لیکن بیماری کی بنیاد تو ظاہری حالت پر ہوتی ہے مگر بڑھا یا اجتہاد سے تعلق رکھتا ہے۔بعض حالات میں بڑھاپا اور کمزوری نظر نہیں آتی۔کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ 30/35 سال کی عمر میں ہی یہ رٹ لگانے لگ جاتے ہیں کہ اب تو ہم بوڑھے ہو گئے اور کئی 60/70 سال کی عمر میں بھی یہ کہتے ہیں کہ ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے؟ ابھی ہم کون سے بوڑھے ہو گئے ہیں یعنی کئی تو اتنی بڑی عمر تک پہنچ کر بھی اپنے آپ کو بوڑھا نہیں سمجھتے اور کئی چھوٹی عمر میں ہی بوڑھا خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔خصوصاً عورتوں میں تو یہ عام مرض ہے کہ تمہیں برس کے قریب پہنچ کر ہی وہ اس طرح ذکر کرنے لگ جاتی ہیں کہ گویا وہ دوسوسال کی بوڑھی ہیں۔جب کوئی بات ہو تو کہتی ہیں کہ ابھی ہماری کوئی عمر ہے۔وہ دن گئے جب ہماری عمر تھی حالانکہ ہندوستانی عورتوں پر تو وہ دن کبھی آتے ہی نہیں۔وہ چونکہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ورزش یا سیر وغیرہ نہیں کرتیں اس لئے ان پر وہ دن کبھی آتے ہی نہیں جب وہ اپنے آپ کو جوان کہہ سکیں۔یا تو ان پر وہ دن ہوتے ہیں جب وہ کہتی ہیں کہ اب بھی ہم جوان نہیں ہوئے یا پھر فوراً ہی بڑھاپا شروع ہو جاتا ہے۔تو بعض لوگ 50/40 سال کی عمر میں اپنے آپ کو بوڑھا سمجھنے لگ جاتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے ضعف ہو جاتا ہے۔میں نے اس پر ایک بار خطبہ بھی پڑھا تھا کہ ضعف کوئی بیماری نہیں۔روزہ تو ہے ہی۔اسی لئے کہ روزہ ہو۔یہ تو بتا تا ہے کہ پیٹ بھر کر کھانے والے ان غریبوں کی حالت کا اندازہ کریں جن کی قریباً