فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 420

۴۲۰ ضمیمه بیماری کی حالت میں روزه نه چهوڑنے کی وضاحت حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں۔آج الفضل کا پر چہ شائع ہوا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ درج ہوا ہے جس کے متعلق مجھے خطرہ ہے کہ اسے صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے کسی کو ٹھوکر نہ لگے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ” میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں۔طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی۔یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے نزول کے دن ہیں۔“ عین ممکن ہے کہ بعض لوگ اس سے یہ بات نکال لیں کہ سفر اور بیماری میں جب تک موت کی حالت نہ ہو جائے روزہ نہیں چھوڑنا چاہئیے اور اس سے یہ دھو کہ لگ سکتا ہے کہ روزہ کے متعلق سفر اور بیماری کے احکام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک قابل قبول نہیں حالانکہ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والے اور آپ کی صحبت سے فیض یاب ہونے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان باتوں میں آپ بڑا زور دیا کرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ غالبا مرزا یعقوب بیگ جو آج کل غیر مبائع ہیں اور ان کے لیڈروں میں سے ہیں۔ایک دفعہ باہر سے آئے۔عصر کا وقت تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زور دیا کہ روزہ کھول دیں اور فرمایا کہ سفر میں روزہ جائز نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ بیماریوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ رخصتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔دین سختی نہیں بلکہ آسانی سکھاتا ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیمار اور مسافر اگر روزہ رکھ سکیں تو رکھ لیں ہم اسے درست نہیں سمجھتے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اول نے محی الدین ابن عربی کا قول بیان کیا کہ سفر اور بیماری میں روزہ رکھنا آپ جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک ایسی حالت میں رکھا ہوا روزہ دوبارہ رکھنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سن کر فرمایا کہ ہاں ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔پس الفضل میں مندرج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ کا یہ مطلب نہیں کہ بیماری اور سفر میں جب تک موت