فرموداتِ مصلح موعود — Page 422
۴۲۲ ضمیمه ہر وقت ایسی حالت رہتی ہے۔اگر تو شریعت کہتی کہ روزہ کا منشا یہ ہے کہ انسان موٹا تازہ طاقت ور ہو جائے تو بے شک کہا جاسکتا تھا کہ ہمیں چونکہ روزے سے ضعف ہو جاتا ہے۔اس لئے روزہ نہیں رکھ سکتے۔مگر جب اس سے غرض ہی یہ ہے کہ جفا کشی اور ہمدردی کی عادت ڈالی جائے اور انسان خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اندر داخل کرے تو پھر کمزوری اور ضعف کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔پس یہ ضعف والا معاملہ نازک ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ضعف بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے جو روزہ چھوڑا جائے وہ اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک سخت معذوری نہ ہو لیکن بیمار اور مسافر کے لئے یہ شرط نہیں۔ایک مسافر خواہ کتنا ہی ہٹا کٹا کیوں نہ ہوا سے روزہ نہیں رکھنا چاہئیے۔اسی طرح وہ شخص جسے ڈاکٹر کہتا ہے کہ بیمار ہے اگر روزہ رکھے گا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا۔وہ صرف بھوکا رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس حوالے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حالت جس میں انسان بمنزلہ بیمار کے ہواس میں بہت احتیاط سے کام لے۔جو شخص بیمار یا مسافر ہووہ تو خدا تعالیٰ سے کہے گا کہ میں نے قیاس کیا کہ میں بیمار ہوں اس لئے میں نے روزہ نہ رکھا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ثبوت لاؤ کہ تمہارا قیاس ٹھیک تھا۔بیمار اور مسافر سے تو کوئی ثبوت نہیں مانگا جائے گا۔مگر مشابہت کے لئے ثبوت کی ضرورت ہے۔اس لئے ایسے معاملہ میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشا یہ ہے کہ انسان ایسے معاملہ میں جلد بازی سے کام نہ لے بلکہ احتیاط کرے تا کہ ایسا نہ ہو کہ اسے اجتہاد میں غلطی لگ جائے۔پس یہ الفاظ ان امور کے متعلق ہیں جن میں انسان اجتہاد کر کے روزہ چھوڑتا ہے۔اس طرح امتحان دینے والے طلبا ہیں وہ بھی اجتہاد سے کام لے کر ہی چھوڑ سکتے ہیں۔اس لئے ان کو ایسا فیصلہ کرتے وقت اچھی طرح سوچ بھی لینا چاہئیے کہ کیا واقعی روزہ رکھنے سے ہم نقصان میں مبتلا ہو جائیں گے۔اگر اس کے آثار ظاہر ہوں تو بے شک چھوڑ دیں لیکن اگر اس کا کوئی امکان نہ ہو تو وہ اپنے کو بمنزلہ بیمار قرار نہ دیں۔پس یہ حکم صرف اجتہاد کے متعلق ہے بیمار اور مسافر کے لئے نہیں۔خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۳۶ تا ۳۹۔خطبہ جمعہ فرموده ۳۰ /جنوری ۱۹۳۱ء)