فرموداتِ مصلح موعود — Page 303
٣٠٣ معاملات یا ہفتہ میں کچھ نہ کچھ رقم بائع کے حوالہ کر دیتا ہے۔جب وہ جمع شدہ رقوم اصل قیمت پر پہنچ جائے تو اس وقت بائع مشتری کو رسید لکھ دیتا ہے کہ تم نے چیز کی قیمت ادا کر دی ہے اور اس دوران میں وہ چیز مشتری اپنے استعمال میں لاسکتا ہے اور وہ تھوڑی تھوڑی رقم جوادا کرتارہتا ہے اس چیز کا کرایہ سمجھا جاتا ہے۔بالفرض اگر مشتری دوران ادائیگی میں آگے مقرر کردہ رقم ادا نہیں کر سکتا اور میعاد گزر جائے تو قانون کے لحاظ سے بائع اس چیز کو مشتری سے واپس لے سکتا ہے اور جتنی بھی رقوم مشتری ادا کر چکا ہے ضائع شدہ کرایہ کے طور پر سمجھا جائے گا۔کیا یہ بیج اسلامی نقطہ نگاہ سے جائز ہے یا نہیں مثلاً Singer سلائی مشین کی بیع وغیرہ؟ جواب :۔قسط وار بیع کی قیمت اگر مقر رہی زیادہ ہو تو جائز ہے لیکن اگر سود کی طرح بڑھتی گھٹتی ہو تو جائز نہیں۔وقت مقرره پرقرضه واپس نه كرنے والے سے هرجانه وصول کرنا سوال :۔زید نے بکر کو اپنا مال مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کے لئے دیا۔زید نے مال فروخت کرنے کے بعد رقم بکر کو ادا نہ کی جس کو کم و بیش ایک سال گزر گیا۔کیا زید اس رقم کے روکنے کی وجہ سے بکر سے ہرجانہ طلب کر سکتا ہے۔اگر کر سکتا ہے تو کیا شریعت نے کوئی شرح مقرر کی ہے۔آریہ دھرم صفحہ ۱۰ حاشیہ در حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظار پر بند رہے گا 66 اس کا مناسب ہرجانہ اس کو دینا ہوگا۔“ جواب:۔میں نے (حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب) یہ حوالہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش کیا ہے اور حضور نے اس پر فرمایا ہے کہ تجارتی سود میں اور اس میں فرق باریک ہے۔جو ہر ایک اس بار یک فرق تک نہیں پہنچ سکتا۔اس واسطے جو قاعدہ ہم نے پہلے جاری