فرموداتِ مصلح موعود — Page 304
۳۰۴ معاملات کیا ہوا ہے وہی ٹھیک ہے کہ قاضی اگر دیکھے کہ مدیون نے دائن کو تکلیف دی تو قاضی اس پر جرمانہ تو کردے لیکن جرمانہ کی رقم انجمن کو دے تاجر کو نہ دے۔(فتوی 123/2۔11۔43 رجسٹر فتاوی حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب صفحه ۳۸) ہر جانے کے متعلق میرا یہ فیصلہ ہے کہ وہ شرعاً درست ہے اگر باوجود تاکید کے لوگ معاملات میں زیادہ صفائی اور قرض دینے والے کے فوائد کا خیال نہ رکھیں تو اس صورت میں قاضیوں کو ہر جانہ مقرر کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے تا کہ جماعت کے معاملات میں اصلاح ہو اور وہ مؤمنانہ فرائض کو زیر نظر رکھا کریں۔(رجسٹر قضائی فیصلہ جات حضرت خلیفہ اسیح الثانی صفحہ ۵۔دارالقضاء، ربو) قاضیوں کا فیصلہ ہرجانہ کا سود مشابہ نہیں ہے کیونکہ سود وہ ہوتا ہے جو قرض دینے والے کو دیا جائے اور یہ ایک جرمانہ کی حیثیت ہے جس کی غرض یہ ہے کہ قرض لینے والے ناجائز طور پر قرض خواہ کو دق نہ کریں اور لوگوں کے کاروبار میں ہرج نہ ہو اور یہ روپیہ جبکہ قرض خواہ کو نہیں دلوایا گیا نہ اس سے اسے کوئی فائدہ پہنچا ہے اس لئے یہ سود نہیں کہلا سکتا۔(رجسٹر قضائی فیصلہ جات حضرت خلیفہ مسیح الثانی صفحه - دارالقضاء ، بود) ۵۔مولوی عبد اللطیف صاحب ٹھیکیدار بھٹہ نے حضور کی خدمت میں شکایت کی کہ فضل عمر ہوٹل کے ذمہ خاکسار کی ایک رقم ۱۹ صد روپے ۱۹۴۷ء سے واجب الادا چلی آتی ہے تا حال ادا نہیں ہوئی۔اس پر حضور نے فرمایا:۔قضاء فیصلہ کرے۔اگر ان کا مطالبہ درست ثابت ہو تو دس فیصدی سالا نہ ہرجانہ دلوایا جائے۔فائل ارشادات حضور - صفحہ ۵ ۶ - دار القضاء ، ربوہ ) سود کی تعریف شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لئے دوسرے کو قرض دیتا ہے اور فائدہ