فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 302

معاملات بھی عائد کی گئی ہے کہ بعض کمزور لوگ اعتراض کر سکتے تھے کہ ہم سود پر روپیہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرض لینے والے کو اس کی ادائیگی کا فکر رہتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ جلد اس قرض سے سبکدوش ہو جاؤں۔لیکن اگر سود نہ لیا جائے تو اسے ادا ئیگی کا احساس نہیں رہتا۔اس وسوسہ کے ازالہ کے لئے فرمایا کہ جب تم ایک دوسرے کو قرض دو تو معاہدہ لکھوالیا کرو کہ فلاں وقت کے اندراندر ادا کر دوں ا۔تا کہ تمہارا روپیہ بھی محفوظ رہے اور دوسرے شخص کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس رہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر قرض الی اجل مسمی پر تو لکھ لیا کرو اور اگر الی اجل مسمی نہ ہو تو بے شک ن لکھو۔اس لئے کہ جب کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے تو بہر حال ایک اجل مسمی کے لئے ہی دیتا ہے خواہ وہ میعاد تھوڑی ہو یا بہت۔اس کے بعد وہ اسے وصول کرنے کا حقدار ہوتا ہے۔یہ تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے دوسرے کو قرض دیا ہو اور پھر اس کے واپس لینے کا اس کے اندر کوئی احساس ہی نہ ہو۔حدیث یا امداد کے رنگ میں اگر کسی کوکوئی رقم دی جائے تو وہ ایک علیحدہ امر ہے لیکن جس چیز پر قرض کے لفظ کا اطلاق ہوگا وہ بہر حال الی اجل مسمی ہی ہو گی خواہ زبان سے کوئی میعاد مقرر کی جائے یانہ کی جائے۔ہاں اگر خاص وقت کے لئے قرض نہیں بلکہ یونہی ایک دو گھنٹہ کے لئے یا ایک دودن کے لئے ہے تو ایسی صورت میں اگر نہ لکھا جائے تو کوئی شرعی گناہ نہیں۔( تفسیر کبیر تفسیر سوره بقره - صفحه ۶۴۳ تا ۶۴۴) (الفضل ۵ را گست ۱۹۶۵ء صفحه ۸) نقد اور اُدھار بیع کی قیمت میں فرق محمد طاہر صاحب سیکرٹری جماعت پاڈانگ کے سوالوں کے جوابات جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمائے۔سوال :۔ایک دوکان میں دو بیج ہوتی ہے۔ایک نقد اور دوسرا قسط وار۔قسط واری بیع نقد کی بیچ سے زیادہ گراں ہوتی ہے۔جب تک مشتری بیج کی قیمت کو ادا نہ کرے وہ اپنے وعدہ کے مطابق ماہ میں