فرموداتِ مصلح موعود — Page 213
۲۱۳ نکاح میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ اگر عورت مرد پر حنین کا الزام لگائے تو مرد کا بھی حق ہے کہ وہ عورت کا معائنہ کروائے کہ وہ باکرہ ہے یا نہیں۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲ - صفحه ۵۲ - دار القضاء، ربوہ ) عورت مھر کی رقم اپنے ماں باپ اور خاوند کودے سکتی ھے اگر عورت کو مہر مل جائے اور اس پر چار پانچ سال ہو گئے ہوں یا کم از کم ایک سال تک اس کے پاس رو پیدرہ چکا ہو تو پھر اگر وہ اسے اپنے خاوند یا ماں باپ کو دے دے تو میں کہوں گا درست ہے اور پسندیدہ۔اگر کسی عورت کا مہر ایک ہزار ہو اور اُسے خاوند ایک لاکھ اپنی طرف سے دے دے تو میں کہتا ہوں وہ عورت اگر گھر بار کی ضروریات اور حالات سے واقف ہونے کے بعد ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ بھی ماں باپ کو دے دے تو میں کہوں گا اس نے بہت اچھا کیا۔لیکن اگر ماں باپ شادی کے وقت ہی لیتے ہیں تو یہ بردہ فروشی ہے جو گناہ ہے۔لیکن جو عورت شادی کے بعد ماں باپ کی مدد کرے گی اور اپنی ضروریات کو سمجھتے ہوئے مہر کی رقم ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ماں باپ کو دے گی وہ خدا تعالیٰ کی مقبول ہوگی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مقبول ہوگی اور ماں باپ کی خدمت کا نیک نمونہ پیش کرے گی۔مصباح جون ۱۹۴۱ء۔الازھار لذوات الخمار صفحہ ۱۶۱۔ایڈیشن دوئم ) شادی بیاہ کی رسومات سوال :۔جو مستورات دلہن کو پہلی دفعہ دیکھنے آتی ہیں وہ کچھ نہ کچھ مٹھائی ضرور لایا کرتی ہیں۔خالی ہاتھ آنا پسند نہیں کرتیں۔آیا یہ جائز ہے یا کہ اس دستور کو روکا جائے؟