فرموداتِ مصلح موعود — Page 214
۲۱۴ نکاح جواب :۔ایک فضول رسم ہے نہ حرام کہہ سکتے ہیں نہ حلال۔سوال :۔یہ عورتیں جب پہلی ملاقات کے لئے آتی ہیں تو واپس جاتے وقت ان کو کچھ پتاشے وغیرہ دیئے جاتے جایا کرتے ہیں۔اس متعلق کیا حکم ہے؟ جواب :۔یہ بھی رسم ہے۔ایسی سب باتیں حتی المقدور روکنی چاہیں۔سوال :۔دلہن کے گھر پہنچنے کی تقریب پر کیا مٹھائی احباب میں تقسیم کر دینی جائز ہے یا کہ صرف دعوت ولیمہ پر کفایت کی جائے ؟ جواب :۔صرف ولیمہ۔سوال :۔دلہن کے آنے پر کیا مستورات جمع ہو کر کچھ شعر واشعار وغیرہ پڑھ کر خوشی منالیں؟ جواب:۔بے شک۔بے حیائی کی بات نہ ہو۔سوال:۔لڑکے کے بیاہ پر ایک دستور ہوتا ہے کہ دولہا کی بہنیں پھوپھیاں یا تو دلہن کے لئے پار جات اور زیور بنا کر لاتی ہیں اور اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم کو اس سے بڑھ کر واپس کیا جائے یا یوں بھی رواج ہوتا ہے کہ ان کو ایسے موقعوں پر کچھ کپڑے اور زیورات بنوا دیئے جائیں۔اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب : یہ بھی بدعت ہے۔روکنا مناسب ہے۔الفضل ۳ رمئی ۱۹۱۵ء - جلد ۲۔نمبر ۱۳۵) اب مسلمانوں نے شریعت اسلام کو چھوڑ کر ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لی ہیں۔بیاہ شادیوں میں انہی کی طرح تیل لگایا جاتا ہے۔گانا باندھا جاتا ہے اور اسی طرح کی اور کئی فتیح رسمیں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ہمارے بعض احمد یوں میں بھی ابھی تک رسمیں چلی آئی ہیں۔مجھے بچپن سے رسموں سے نفرت ہے۔اس لئے دل جلتا ہے اور چاہتا ہوں کہ سختی سے روکوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آجاتی ہے کہ نئے نئے مسلمان ہونے والوں کا بھی ایک حد تک لحاظ رکھنا چاہئے۔الفضل ، ار جولائی ۱۹۱۴ء۔جلد ۲ نمبر، اصفحه ۵)