فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 212

۲۱۲ نکاح روپیہ لے کر انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور فرمانے لگے درست بات یہی ہے کہ پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور کچھ عرصہ کے بعد وہ معاف کرنا چاہے تو کر دے ورنہ دیئے بغیر معاف کرانے کی صورت میں تو مفت کرم داشتن“ والی بات ہوتی ہے۔پس عورتوں سے معاف کرانے سے پہلے ان کو مہر دیا جانا ضروری ہے۔( مصباح جون ۱۹۴۱ء۔الازھار لذوات الخمار صفحہ ۱۶۰۔ایڈیشن دوئم ) ایک مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔میں فیصلہ کرتا ہوں کہ مہر سالم پانچ سو روپیہ مدعیہ کو دلایا جائے کیونکہ شریعت کی رو سے عورت کا حق ہے اور بسا اوقات اس کی معافی بھی قابل تسلیم نہیں کیونکہ اس کی ایک رنگ ماتحت حالت اس کی معافی کی وقعت کو اصول شرعیہ کے رو سے بہت کچھ گرادیتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ ہے۔پس قبل از ادائیگی مہر معافی کوئی حقیقت نہیں رکھتی خصوصا جبکہ ہمارے ملک میں عورتوں میں یہ عام خیال ہو کہ مہر صرف نام کا ہوتا ہے بلکہ بعض اس کی وصولی کو بہتک خیال کرتی ہیں۔(فائل فیصلہ جات نمبرا۔صفحہ ۴۶۔دارالقضاء، ربوہ) دونوں فریق پیش ہوئے۔مدعیہ کے وکیل کا مطالبہ ہے کہ پورا مہر دیا جاوے۔مدعاعلیہ کہتا ہے کہ بالکل نہ دیا جائے۔مدعیہ کی طرف سے قدوری کا ایک حوالہ پیش کیا گیا ہے کہ عنین ہونے کی صورت میں جب اختلاف کیا جاوے تو مہر سارا دلایا جانا چاہئے۔مگر اس کے ساتھ فقہاء کی طرف سے دلیل نہیں دی گئی جس کا شرعی اصول پر جواز نہ کیا جاسکے۔اس لئے اس فتوی کی حقیقت محض ایک رائے کی ہے۔اس سے زیادہ نہیں اور شریعت کی نص پر کسی انسان کی رائے کا اثر نہیں پڑسکتا۔اس لئے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑکی کو صرف نصف مہر دلایا جاوے کیونکہ جس بناء پر اس نے طلاق حاصل کی ہے وہ بتاتی ہے کہ خاوند کے ساتھ اس کا تعلق مائل نہیں ہوا۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲۔صفحہ ۴۹۔دارالقضاء، ربوہ )