فرموداتِ مصلح موعود — Page 200
۲۰۰ نکاح جواب :۔حضور نے لکھوایا کہ میرے نزدیک جو شخص کسی احمدی سے رشتہ طلب کرتا ہوا اور یہ سن کر کہ غیر احمدی کو احمدی لڑکی نہیں دیتے وہ احمدی ہو جائے تو ایسے آدمی کو ہرگز لڑکی نہیں دینی چاہئے۔اگر وہ دین کے لئے احمدی ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو لڑکی دے گا۔الفضل ۱۹ جون ۱۹۷۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۵۵) رضاعت رضیعا کے معنی گودی کے بچہ کے ہوں گے نہ کہ دودھ پینے والے بچے کے اور اگر دودھ پینے والے بچے کے بھی معنی لئے جائیں تب بھی کوئی اعتراض کی بات نہیں۔میں نے خود آٹھ آٹھ سال کے بچوں کو اپنی آنکھوں سے دودھ پیتے دیکھا ہے۔کیا آپ کا یہ خیال کہ اسلامی شریعت ہمیشہ سے چلی آتی ہے اور جو قوانین ہمارے لئے ہیں وہی قوانین پہلی امتوں میں بھی جاری تھے۔ایسا نہیں بلکہ ان کے لئے اور قوانین تھے اور ہمارے لئے اور۔۔۔رضاعت کی دو سالہ مدت قرآن نے مقرر کی ہے۔پہلی شریعتوں نے مقرر نہیں کی۔میں نے آٹھ سالہ بچوں کو دودھ پیتے دیکھنے کی جو بات کہی ہے اس کی ایک مثال بھی میں دے دیتا ہوں۔امتہ اٹھی مرحومہ سات آٹھ سال کی عمر تک اپنی والدہ کا دودھ پیتی رہی تھیں اور جو بچہ بھی پیدا ہوتا اس کے ساتھ شامل ہو کر دودھ پینے لگ جاتیں۔آخر حضرت خلیفہ اسی اول نے ڈانٹا کہ یہ خلاف اسلام طریق ہے اسے چھوڑ و تب انہوں نے دودھ پینا چھوڑا۔(الفضل ۷ مئی ۱۹۶۰ء صفحه ۴ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر منظور محمد صاحب کی لڑکی حامدہ خاتون کا نکاح حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے لڑکے میاں عبدالئی صاحب مرحوم سے کر دیا۔نکاح کے بعد میاں عبدائی صاحب کی والدہ کو یاد آ گیا اور انہوں نے کہا کہ لڑکی نے میرا دودھ پیا ہوا ہے۔“