فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 199

١٩٩ نکاح غیر احمدی سے کرتا ہے وہ شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔پس ایسی شادی میں شرکہ نا جائز ہے۔الفضل ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء - جلد ۸ - نمبر ۸۸ صفحه ۹) سوال :۔ایک احمدی اپنے رشتہ کی خاطر غیر احمدی بن گیا ہے اب اس کی شادی ہے کیا احمدی اس میں شریک ہو سکتے ہیں؟ جواب :۔احمدی شامل نہ ہوں۔( الفضل ۱۹ را گست ۱۹۱۶ ء صفحه ۲ ) سوال :۔کیا غیر مبائعین سے رشتہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب :۔جائز ہے مگر اسی طرح جائز ہے جیسے ایک بے نماز سے جائز ہے۔کوئی مومن اپنی لڑکی کا ایمان خطرہ میں نہیں ڈال سکتا جب تک وہ خود کمز ور ایمان کا نہ ہو۔الفضل ۲۲ مئی ۱۹۲۲ء صفحهیم ) بیہ درست ہے کہ کسی شخص کے اپنے آپ کو احمدی کہنے پر ہم اسے احمدی مجھنے پر مجبور ہیں اور اگر وہ کہتا ہے کہ میں دو سال سے دلی طور پر احمدی ہوں تو ہم اسے سچا سمجھیں گے لیکن یہ معاملہ صرف ایمان تک محدود ہے۔معاملات میں یہ صورت نہ ہوگی۔معاملات میں ہم ظاہر پر حکم صادر کریں گے کیونکہ ہم اس کے دل کی حالت کو دیکھ نہیں سکتے۔پس جن لوگوں نے اسے احمدی قرار دے کر رشتہ دلانے کے حق میں رائے دی غلطی کی ہے۔یہ کہنا کہ وہ گزشتہ دوسال کا چندہ دینے کے لئے بھی تیار ہے۔معاملہ کو اور مشکوک کر دیتا ہے (۔) کیونکہ اس طرح تو نہایت آسانی سے ہر شخص پچھلے چند سالوں کا چندہ دے کر رشتہ حاصل کر سکتا ہے۔الفضل ۱۸ جون ۱۹۴۷ء جلد ۳۵ نمبر ۱۴ صفحه ۳) سوال :۔بعض غیر احمدی احمدیوں سے رشتہ لینے کی خاطر احمدی بن جاتے ہیں ان کی نسبت کیا ارشاد ہے؟