فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 201

۲۰۱ نکاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جب یہ بات پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے شمس رضاعات“ کی شرط ہے یعنی یہ ضروری ہے کہ بچہ نے پانچ دفعہ دودھ پیا ہو۔یہ نہیں کہ ایک ہی دفعہ میں اس نے پانچ گھونٹ دودھ پیا ہو۔بلکہ الگ الگ وقتوں میں پانچ دفعہ دودھ پینا نے ضروری ہے مگر حضرت خلیفتہ امیج اول رضی اللہ عنہ فقہاء کے قول کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایک دفعہ بھی بچہ پانچ گھونٹ پی لیتا ہے تو اس پر اس مسئلہ کا اطلاق ہو جاتا ہے۔غرض خمس رضاعات“ کے ایک معنی وہ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیتے تھے اور ایک معنی وہ تھے جو حضرت خلیفہ المسیح اول سمجھتے تھے۔اور چونکہ یہ شادی کا معاملہ تھا اور حضرت خلیفہ اول فقہاء کی تشریح کو زیادہ قابل قبول سمجھتے تھے اس لئے آپ کو اس کا صدمہ ہوا کہ آپ کو اسہال شروع ہو گئے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ نکاح توڑ دیا جائے۔یہ ایک فقہی مسئلہ ہے اس میں ضروری نہیں کہ میری تشریح کو ہی درست سمجھا جائے۔ولی نکاح ( الفضل ۳ ستمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۴ ) بعض لوگ عورتوں سے بغیر اُن کے ماں باپ یا بھائیوں یا چاؤں کی رضامندی کے محض عورت کی رضامندی دیکھ کر شادی کر لیتے ہیں اور اسے بالکل جائز سمجھتے ہیں چونکہ عام طور پر زمینداروں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب لڑکی بالغ ہو جائے اور کسی جگہ وہ اپنی رضا مندی کا اظہار کر دے تو ماں باپ یا بھائیوں یا چوں کی رضامندی کی ضرورت نہیں رہتی۔اس لئے وہ ایسی لڑکیوں سے شادی کر لیتے اور انہیں اپنے گھروں میں بسا لیتے ہیں حالانکہ اسلام نے ایسے نکاحوں کی ہرگز اجازت نہیں دی۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ”لا نکاح الابولی ولی کی رضامندی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہوسکتا۔اول ولی جو شریعت نے مقرر کیا باپ ہے۔باپ نہ ہوتو پھر بھائی ولی ہیں اور اگر بھائی نہ ہوں تو بچے ولی ہیں۔غرض قریب اور بعید کے جدی رشتے دار ایک دوسرے کے بعد ولی ہوتے چلے جاتے