فرموداتِ مصلح موعود — Page 35
۳۵ نماز سے متعلقہ مسائل عمر میں کہتی ہیں ابھی بچپن ہے جو ان ہو کر نماز پڑھیں گی۔جب جوان ہوتی ہیں تو بچوں کے عذر کر دیتی ہیں اور جب بوڑھی ہو جاتی ہیں تو کہتی ہیں اب تو چلا نہیں جا تا نماز کیا پڑھیں۔گویا اُن کی عمر ساری یونہی گزر جاتی ہے۔نماز کوئی ورزش نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے اس لئے اسے سمجھ کر اور اچھی طرح جی لگا کر پڑھنا چاہئے۔اور کوئی نماز سوائے ان ایام کے جن میں نہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے نہیں چھوڑنی چاہئے۔کیونکہ نماز ایسی ضروری چیز ہے کہ اگر سال میں ایک دفعہ بھی جان بوجھ کر نہ پڑھی جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔پس جب تک ہر ایک مسلمان مرد اور عورت پانچوں وقت بلا ناغہ نمازیں نہیں پڑھتے وہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔الازھار لذوات الخمار صفحه ۴۱ ۴۲) اوّل نماز ہے جس کا ادا کرنا نہایت ضروری ہے مگر اس میں نہایت سستی کی جاتی ہے اور خاص کر عورتیں بہت سست نظر آتی ہیں۔کئی قسم کے عذر پیش کیا کرتی ہیں مثلا یہ کہ میں بچہ والی جو ہوئی۔کپڑے کس طرح پاک رکھوں کہ نماز پڑھوں لیکن کیا کپڑے پاک رکھنا کوئی ایسی مشکل بات ہے جو ہو ہی نہیں سکتی۔ایسی تو نہیں ہے۔اگر احتیاط کی جائے تو کپڑے پاک رہ سکتے ہیں لیکن اگر احتیاط نہیں کی جاسکتی تو کیا یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک جوڑا ایسا بنا لیا جائے جو صرف نماز پڑھنے کے وقت پہن لیا جائے اور اگر کوئی عورت ایسی ہی غریب ہے کہ دوسرا جوڑ انہیں بنا سکتی تو اُسے بھی نماز معاف نہیں ہے وہ پلید کپڑوں میں ہی پڑھ لے۔اول تو انسانیت چاہتی ہے کہ انسان پاک وصاف رہے اس لئے اگر کپڑا نا پاک ہو جائے تو اسے صاف کر لینا چاہئے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی ایسی صورت ہے جس میں صاف نہیں کیا جاسکتا تو بھی نماز نہیں چھوٹ سکتی۔الازھار لذوات الخمار صفحه ۲۳ تا ۲۶۔ایڈیشن دوئم)