فرموداتِ مصلح موعود — Page 36
۳۶ نماز سے متعلقہ مسائل تارك نماز قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ تو انہیں کہہ دو کہ وہ نمازوں کو ہمیشہ اور باشرائط ادا کیا کریں اور اپنے مالوں کو چھپ چھپ کر اور ظاہراً بھی خرچ کیا کریں۔اس حکم سے میرے نزدیک یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص ایک نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑتا ہے وہ نمازی نہیں کہلا سکتا۔(تفسیر کبیر جلد سوم ،سورہ ابراہیم صفحه ۴۷۹) نماز كاترك گناه هے يُقِيمُونَ الصَّلوة دوسرے معنے اقامہ کے اعتدال اور درستی کے ہیں۔ان معنوں کی رو سے يُقِيمُونَ الصَّلوة کے یہ معنے ہیں کہ متقی نماز کو اس کی ظاہری شرائط کے مطابق ادا کرتے ہیں اور اس کے لئے جو قواعد مقرر کئے گئے ہیں ان کو توڑتے نہیں۔مثلاً تندرستی میں یا پانی کی موجودگی میں وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں اور وضو بھی ٹھیک طرح ان شرائط کے مطابق ادا کرتے ہیں جو اس کے لئے شریعت نے مقرر کی ہیں۔اسی طرح صحیح اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں۔نماز میں قیام، رکوع سجدہ ، قعدہ کو عمدگی سے ادا کرتے ہیں۔مقررہ عبارات اور دعا ئیں اور تلاوت اپنے اپنے موقع پر اچھی طرح اور عمدگی سے پڑھتے ہیں۔غرض تمام ظاہری شرائط کا خیال رکھتے ہیں اور انہیں اچھی طرح بجالاتے ہیں۔( تفسیر کبیر جلد اول، سوره بقره صفی ۱۰۵،۱۰۴) جولوگ درمیان میں نماز چھوڑتے رھتے ھیں ان کی سب نمازیں رڈ ھوجاتی ہیں اقامۃ الصلواۃ کے معنے باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کے ہیں۔کیونکہ قام علی الامر کے معنے کسی چیز پر ہمیشہ قائم رہنے کے ہیں۔پس يُقِيمُونَ الصَّلوة کے یہ معنے ہوئے کہ نماز میں ناغہ نہیں کرتے۔ایسی نماز جس میں ناغہ کیا جائے اسلام کے نزدیک نماز ہی نہیں کیونکہ نماز وقتی اعمال سے نہیں بلکہ اسی وقت مکمل