فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 348

۳۴۸ پرده کس کا نام ہے۔آخر قرآن مجید میں جو پردے کا حکم ہے اس کے کوئی نہ کوئی تو معنی ہوں گے۔اگر اس کے کوئی معنی ہیں تو بہر حال اسے مسلمانوں نے ہی پورا کرنا ہے۔بے پردگی کا رجحان :۔جولوگ پر دے کے شروع سے پابند نہیں ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ایک دن میں پردے کے پوری طرح پابند ہو جائیں۔مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اسلام کے نام پر نئی نئی رسمیں جاری کی جائیں اور سخت قسم کے پردے کے ردعمل کے طور پر عورتیں پردے سے بالکل ہی آزاد ہو جا ئیں۔جولوگ ایک عرصہ سے پردہ چھوڑ چکے ہیں انہیں بے شک پہلے آہستہ آہستہ پردے کی حکمت کا قائل کرو اور بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے مسائل میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی ہیں لیکن جو لوگ محض اپنی دنیوی ترقی اور اعلیٰ طبقہ میں اپنے جھوٹے وقار کو قائم کرنے کے خیال سے اپنے گھروں میں بے پردگی کو رواج دے رہے ہیں وہ یقینا اپنے عمل سے کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کر رہے۔یورپ والے دو ہی اعتراض پیش کیا کرتے ہیں۔ایک یہ کہ پردے میں صحت برقرار نہیں رہ سکتی اور دوسرا یہ کہ تعلیم حاصل نہیں کی جا سکتی۔ہم نے اپنے ہاں عملاً ان دونوں اعتراضوں کو غلط ہونا ثابت کر دیا ہے۔ہمارے ہاں پردے کی پابندی کے باوجود سے اعلی تعلیم عورتیں حاصل کر رہی ہیں اور ان کی صحت پر بھی پردے نے کوئی بُرا اثر نہیں ڈالا۔(الفضل یکم جنوری ۱۹۵۵ء) میں اس خطبہ کے ذریعہ ان لوگوں کو جو اپنی بیویوں کو بے پردہ رکھتے ہیں تنبیہ کرتا ہوں اور انہیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باقی احمدی بھی مجرم ہیں کیونکہ محض اس لئے کہ فلاں صاحب بڑے مالدار ہیں۔تم ان کے ہاں جاتے ہو ان سے مل کر کھانا کھاتے ہو اور ان سے دوستی اور محبت کے تعلقات رکھتے ہو۔تمہارا تو فرض ہے کہ تم ایسے آدمی کو سلام بھی نہ کرو۔تب بے شک سمجھا جائے گا کہ تم میں غیرت پائی جاتی ہے اور تم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت کروانا چاہتے ہو۔لیکن اگر تم ایسے شخص سے مصافحہ کرتے ہو اس کو سلام