فرموداتِ مصلح موعود — Page 347
۳۴۷ پرده جس طرح عورت کے بعض حصوں پر مرد کی پڑتی ہے۔خواہ وہ کپڑوں کے نیچے چھپے ہوئے ہوں اور یہ چیز ممنوع نہیں۔اصل چیز جو پردہ کی جان ہے اور جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے وہ دونوں کی نظر کو ملنے سے بچانا ہے اور جسم کا وہ حصہ جس پر نگاہ ڈالتے ہوئے آنکھیں ملنے سے رہ ہی نہیں سکتیں یا اس امر کی احتیاط نہایت مشکل ہو جاتی ہے۔وہ چہرہ ہی ہے۔پس غض بصر کے حکم کا یہ منشاء نہیں کہ عورت کے لئے مرد کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر ڈالنا منع ہے یا مرد عورت کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر نہیں ڈال سکتا بلکہ صرف دونوں کی نگاہوں کو آپس میں ملنے سے بچانا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورہ نور صفحه ۲۹۷، ۲۹۸) سوال :۔عورتیں نقاب باندھتی ہیں آدھے سر پر اور بازار میں چلتے وقت منہ اور ناک ڈھانکنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر ما تھا اور آدھے سر کے بال ننگے رہتے ہیں؟ جواب: غلطی کرتی ہیں۔ایسا طریقہ ہونا چاہئے جس میں شریعت پوری ہو جائے اور ان کے سر کے بال اور ماتھا ننگا نہ رہے۔فائل مسائل دینی DP 474/23۔2۔56-32-A) پردہ کی پابندی دوسری چیز جس کی طرف میں عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں وہ پردہ کی پابندی ہے۔پرانے زمانے میں پر دے کو اتنی بھیا نک شکل دے دی گئی تھی کہ وہ اچھا خاصہ قید خانہ معلوم ہوتا تھا۔ایسے پردے کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔اسلامی تاریخ سے ایسے پردے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔لیکن اس زمانہ میں پردے کی اس بھیانک صورت کا رد عمل اس رنگ میں ظاہر ہورہا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں لگتا پر دہ آخر کس چیز کا نام ہے۔عورتیں مردوں سے مصافحے کرتی ہیں، تقریریں کرتی ہیں ان میں آزادانہ پھرتی ہیں اور پھر بھی وہ اسلامی پردے کی قائل کہلاتی ہیں۔اگر اسلامی پردہ اسی کو کہتے ہیں تو پھر پتہ نہیں بے پردگی