فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 257

۲۵۷ خلع نان نفقه عورت اگر خاوند کی مرضی کے بغیر والدین کے گھر جاوے تو شریعت خرچ نہیں دلاتی۔لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ لڑکی جب خاوند کے پاس تھی تب بھی وہ خرچ نہ دیتا تھا۔تب شریعت اسے خرچ دلائے گی کیونکہ اس صورت میں اس پر مقام کی تبدیلی نے کوئی نیا اثر پیدا نہیں کیا۔(۲/۱۰/۱۹۴۶) (رجسٹر ہدایات امیرالمومنین۔ہدایت نمبر ۱۳۸۔دارالقضاء، ربوہ) لعان والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء (النور:۷) وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں اور کوئی بیرونی گواہ نہیں رکھتے صرف ان کا نفس ہی گواہ ہوتا ہے ان میں سے ہر شخص چار دفعہ حلفیہ گواہی دے کہ واقعی میں نے اپنی عورت کو بدکاری کرتے دیکھا ہے اور میں سچا ہوں اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔جب خاوند اس طرح قسم کھا چکے تو عورت بھی چار دفعہ قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔جب دونوں طرف سے قسمیں کھالی جائیں تو پھر ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا یعنی ضلع کا حکم دیدیا جائے گا لیکن اگر خاوند بیوی پر قذف تو کرے مگر نہ گواہ لائے نہ لعان کرے تو خاوند پر حد لگے گی۔( یعنی اسے اسی کوڑے لگیں گے ) ہاں اگر وہ لعان کرے تو پھر وہ حد سے آزاد ہو جائے گا یعنی کوڑے کھانے سے بچ جائے گا۔لیکن اگر بیوی بھی لعان کر دے تو پھر بیوی پر زنا کا الزام ثابت نہیں ہوگا اور دونوں طرف کا معاملہ برابر سمجھا جائے گا۔یہ لعان کسی مخفی مقام پر نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا شخص اول لوگوں کے مجمع میں قسم کھائے۔دوئم کسی مقدس مقام پر کھائے۔سوئم جب وہ لعنت کرنے لگے تو اس کو کہا جائے گا کہ دیکھو