فرموداتِ مصلح موعود — Page 219
۲۱۹ نکاح بیوی بچے بیمار ہو جائیں اور وہ ایسے ڈاکٹروں سے علاج کروائے جو قیمتی ادویات استعمال کروائیں اور ہزار میں سے پانچ سات سو روپیہ اس کا دواؤں پر ہی خرچ ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اپنے کھانے پینے اور پہنے کے اخراجات میں کوئی کمی نہ کرے تو پھر اس کا یہی فعل اسراف بن جائے گا حالانکہ عام حالات میں یہ اسراف میں شامل نہیں تھا۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ الفرقان صفحه ۵۷۱) جهیز اوربری کی رسومات اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہ صرف جہیز بلکہ بری بھی بُری چیز ہے۔اپنی استطاعت کے مطابق جہیز دینا تو پھر بھی ثابت ہے لیکن بری کا اس رنگ میں جیسے کہ اب رواج ہے مجھے اب تک کوئی حوالہ نہیں ملا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جہیز بھی اگر کوئی دے سکے تو نہ دے۔ایسے موقعوں پر ہمارے لئے سنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز عمل ہے۔الازهار لذوات الخمار صفحه ۲۴۸) اصل بات یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اگر کوئی دیتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جو شخص معمولی چیزیں بھی دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اور پھر زیر بار ہوکر ایسا کرتا ہے تو شریعت اُسے ضرور پکڑے گی چونکہ اس نے اسراف سے کام لیا حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اسراف تبذیر سے منع فرمایا ہے۔لیکن اگر کوئی اپنی طاقت اور خوشی کے مطابق اس سے بہت زیادہ بھی دے دیتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں۔اگر آج ایک شخص اس قدر حیثیت رکھتا ہے کہ وہ لڑکی کو دس ہزار روپیہ دے سکتا ہے تو بے شک دے۔اگر اسکے بعد اس کی حالت انقلاب دہر کے باعث ایسی ہو جائے کہ دوسری لڑکی کو کچھ بھی نہ دے سکے تو اس میں اس پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ پہلی کو دیتے وقت اس کی نیت یہی تھی کہ سب کو دے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔(مصباح ۱۵ مئی ۱۹۳۰ ء - الازهار لذوات الخمار صفحه ۲۴۹ ،۲۵۰۔ایڈیشن دوئم )