فرموداتِ مصلح موعود — Page 218
۲۱۸ نکاح زیور اور کپڑے لئے جائیں گے۔پھر آہستہ آہستہ ایسی شرائط تحریروں میں آنے لگیں۔پھر میرے سامنے بھی پیش ہونے لگیں۔شریعت نے صرف مہر مقرر کیا ہے اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ہونا بے حیائی ہے اور لڑکی بیچنے کے سوا اس کے اور کوئی معنے میری سمجھ میں نہیں آتے۔یہ تو خاوند کا کام ہے کہ اپنی بیوی کے لئے جو تحائف مناسب سمجھے لائے اسے مجبور کر کے تحائف لینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کوگردن سے پکڑے اور اس کے منہ پر مکا مار کر کہے مجھے چومو۔وہ بھی کوئی پیار ہے جو مارکر کرایا جائے۔اسی طرح وہ کیا تحفہ ہے جو مجبور کر کے اور یہ کہہ کر کہ اگر یہ چیزیں نہ دو گے تو لڑکی نہیں دی جائے گی ، وصول کیا جائے گا۔یہ تحفے نہیں بلکہ جرمانہ ہوگا۔جس سے محبت نہیں بڑھ سکتی بلکہ رنجیدگی پیدا ہوگی۔میں آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ اگر مجھے علم ہو گیا کہ کسی نکاح کے لئے زیور اور کپڑے وغیرہ کی شرائط لگائی گئی ہیں یا لڑکی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا۔اگر تم نے واقعہ میں اسلام قبول کیا ہے اور اپنی اصلاح کرنا چاہتے ہوتو اصلاح کی صحیح صورت اختیار کرو۔ایک طرف سے غلاظت پونچھ کر دوسری طرف لگا لینا صفائی نہیں۔(خطبات محمود جلد ۳، صفحه ۳۰۰، ۳۰۱) اس زمانہ میں زیادہ تر شادی بیاہ کے موقعہ پر لوگ اپنی ناک رکھنے کے لئے زیورات وغیرہ پر طاقت سے زیادہ روپیہ خرچ کر دیتے ہیں جو انجام کار ان کے لئے کسی خوشی کا موجب نہیں ہوتا۔کیونکہ انہیں دوسروں سے قرض لینا پڑتا ہے جس کی ادائیگی انہیں مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے اگر کسی کے پاس وافر روپیہ موجود ہو تو اس کے لئے شادی پر مناسب حد تک خرچ کرنا منع نہیں لیکن جس کے پاس نقد روپیہ موجود نہیں وہ اگر ناک رکھنے کے لئے قرض لے کر روپیہ خرچ کرے گا تو اس کا یہ فعل اسراف میں شامل ہوگا۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسراف کی شکلیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں۔مثلاً ایک شخص کی آمد دو چار ہزار روپیہ ماہوار ہے اور وہ پندرہ بیس روپے گز کا کپڑا پہنتا ہے یا پانچ سات سوٹ تیار کرا لیتا ہے تو اس کے مالی حالات کے مطابق اسے ہم اسراف نہیں کہیں گے لیکن اگر خدانخواستہ اس کے