فرموداتِ مصلح موعود — Page 220
۲۲۰ نکاح اعلان نکاح بذریعه دف اعلان نکاح کے لئے دف جائز ہے مگر آج دنیا ترقی کر گئی ہے۔اور اس کو لوگ پسند نہیں کرتے ہیں اور جن باجوں کو لوگ پسند کرتے ہیں وہ جائز نہیں۔اس لئے قدرت نے ہم سے یہ بھی چھڑوا دیا۔اس کی بھی ضرورت نہیں رہی کیونکہ دف سے غرض اعلان تھا اور اعلان کا ذریعہ دف سے بھی بہت اعلیٰ درجہ کا نکل آیا جو اخبار ہے کہ اس میں اعلان ہو جاتا ہے۔دف سے جو غرض تھی وہ دوسری صورت میں بطو راحسن پوری ہوگئی۔( خطبات محمود جلد۳، صفحه ۹۴) ایک صاحب نے لکھا کہ نکاح کے موقع پر انگریزی با جا اعلان بالدف کا قائم مقام ہوسکتا ہے یا نہیں؟ حضور نے فرمایا:۔اعلان بالدف بالکل جائز ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آیا آج کل اس ذریعہ سے زیادہ پختہ ذریعہ اعلان کا موجود ہے یا نہیں۔اگر موجود ہو تو اس کی کیا ضرورت ہے۔لیکن اگر کوئی کرتا ہے تو وہ گنہگار نہیں۔الفضل ۷ راگست ۱۹۲۳ء جلد نمبر ۹ صفحه ۶) شادی کے موقع پر گانا، گھڑا بجاناوغیرہ شادی بیاہ کے موقع پر شریعت کی روسے گانا جائز ہے۔مگروہ گانا ایسا ہی ہونا چاہئے جو یا تو مذہبی ہو اور یا پھر بالکل بے ضرر ہو مثلاً شادی بیاہ کے موقع پر عام گانے جو مذاق کے رنگ میں گائے جاتے ہیں اور جو بالکل بے ضرر ہوتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ وہ محض دل کو خوش کرنے کے لئے گائے جاتے ہیں ان کا اخلاق پر کوئی برا اثر نہیں ہوتا۔ایک دوست نے سوال کیا کہ شادی کے موقع پر عورتیں بعض دفعہ گھڑا بجاتی ہیں اس کے متعلق