فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 196

۱۹۶ نکاح چنانچہ ایک شخص فضل الرحمن نام۔ہیلاں ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غیر احمدیوں کے ہاں اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کی اجازت مانگی۔لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔آپ کی وفات کے بعد جب اس نے رشتہ کر دیا تھا تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو اپنی جماعت سے نکال دیا اور وہ وہاں کے احمدیوں کا امام تھا اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی میں اسے داخل سلسلہ نہیں کیا۔اب میں نے اس کی درخواست تو بہ قبول کر لی ہے۔(انوارالعلوم جلد۳، متفرق امور صفحه ۴۲۲) غیر احمدیوں کو لڑکی دینا ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدی کولڑ کی دینا جائز ہے یا نہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کودے۔آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی تو بہ قبول نہ کی۔باوجود یہ کہ بار بار تو بہ کرتا رہا۔پس وہ لوگ جو ایسے ہیں وہ سن لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر بہت زور دیا ہے۔اس لئے اس پر ضرور عمل درآمد ہونا چاہئے۔میں کسی کو جماعت سے نکالنے کا عادی نہیں لیکن اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔ابھی چند ماہ ہوئے ایک شخص نے غیر احمدیوں میں اپنی لڑکی دی تھی۔میں نے اسے جماعت سے الگ کر دیا بعد میں اس نے بہت تو بہ کی