فرموداتِ مصلح موعود — Page 197
۱۹۷ نکاح اور معافی مانگی لیکن میں نے کہا کہ تمہارا یہ اخلاص بعد از جنگ یاد ہے اس لئے برکلہ خود با ندزد کے مطابق اپنے سر پر مارو۔(انوار العلوم جلد ۳، انوار خلافت صفحه (۱۵۱) غیر احمدی کولڑکی دینا پھر ایک بات غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کے متعلق ہے۔اس کے متعلق جو روایت پیش کی جاتی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا واقعہ نہیں اور نہ ہی آپ سے اس کے متعلق مشورہ لیا گیا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ کہا تھا کہ میرے رشتہ دار کہتے ہیں کہ ایک لڑکی کا تم نے قادیان میں نکاح کر دیا ہے تو دوسری لڑکی ہمیں دے دو۔اگر میں نے نہ دی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا ہاں دے دو۔لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ آپ کو یہ بھی علم تھا کہ جس لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح ہونا ہے وہ غیر احمدی ہے۔بعد میں جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ صاحبہ کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو کہہ دیں کہ یہ نسبت انہوں نے کیوں کی ہے۔پھر فرمایا اچھا تم ابھی ان سے نہ کہنا میں حقیقۃ الوحی دوں گا۔وہ اس لڑکے کو پڑھنے کے لئے دی جائے اگر وہ اس کے بعد احمدی ہو جائے تو اس سے نکاح کیا جائے ورنہ نہیں۔مگر بعد میں آپ کو یہ بات یاد نہ رہی۔لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس ایسی گواہیاں موجود ہیں جو اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیتی ہے۔چنانچہ ایک شخص فضل الرحمن نام ہیلان ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غیر احمدیوں کے ہاں اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔آپ کی وفات کے بعد جب اس نے رشتہ کر دیا تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو اپنی جماعت سے نکال دیا۔(انوار العلوم جلد ۳، متفرق امور صفحه ۴۲۲،۴۲۲۱)