فرموداتِ مصلح موعود — Page 75
۷۵ اسلامی عبادات اور مسجد میں ہے کہ نماز میں صرف ادعیہ ماثورہ بلند آواز سے پڑھنی چاہئیں۔ہاں اگر اپنی زبان میں کوئی دعا کرنی ہو تو بجائے بلند آواز کے دل میں ہی کر لینی چاہئے۔میرا عمل اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ادعیہ ماثورہ کے پڑھتے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو بھی شامل کرلیا کرتا ہوں کیونکہ جو حکمت قرآن مجید اور احادیث کی دعائیں پڑھنے میں ہے وہی حکمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں بھی موجود ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جہاں تک ذاتی ضرورت اور خواہش کا سوال ہے انسان اپنی زبان میں ہی زیادہ مؤثر طریق اور عمدگی کے ساتھ دعا کر سکتا ہے۔جس زبان میں انسان سوچتا ہے اور غور کرتا ہے اس میں اسے پوری مہارت ہوتی ہے۔اس لئے وہ صحیح رنگ میں اسی زبان میں اپنے دلی جذبات اور اندرونی کیفیات کا اظہار کر سکتا ہے اگر وہ کسی ایسی زبان میں دعا کرے گا جس پر اسے پورے طور پر تصرف حاصل نہیں تو وہ اپنے جذبات کا پورے طور پر اظہار نہیں کر سکے گا۔پس جہاں تک انفرادی طور پر خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا سوال ہے اپنی زبان میں دعا مانگنا ایک ضروری چیز ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ایسی دعائیں بلند آواز سے کی جائیں یا اگر کوئی شخص امام ہو تو وہ اردو یا کسی اور زبان میں اونچی آواز سے دعائیں مانگنے لگ جائے وہ اپنے دل میں تو ایسی دعائیں مانگ سکتا ہے اور اسے ضرور مانگنی چاہئے مگر بلند آواز سے بالخصوص ایسی حالت میں جب کوئی شخص امام ہو صرف ایسی دعا ئیں ہی مانگنی چاہئیں جوادعیہ ماثورہ میں شامل ہوں اور جن کا قرآن وحدیث میں ذکر آتا ہو۔اس میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ اگر اپنی زبان میں دعا کی جائے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ انسان صحیح طور پر شریعت کے تقاضے کو پورا کر سکے مثلاً دعا کرتے وقت بعض دفعہ انسان خدا تعالیٰ کو اس کی صفات یاد دلاتا ہے بعض دفعہ خدا کے بندے کے ساتھ جو تعلقات ہیں ان کا واسطہ دیتا ہے۔(الفضل ۱۸ جون ۱۹۴۷ء)