فرموداتِ مصلح موعود — Page 74
۷۴ اسلامی عبادات اور مسجد میں کیفیتوں کو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ نے رکھ دیا ہے ان میں دن کے وقت خاموشی کی وجہ کو میں بیان کر چکا ہوں۔دن کے وقت کی نمازوں میں جمعہ کی نماز مستثنیٰ ہے۔اس میں جو قراءت نماز میں بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے وہ اس لئے ہے کہ جمعہ اجتماع کا دن ہے اس لئے اس میں قراءت بالجبر ضروری تھی۔اب یہ کہ رات کی نمازوں میں سے بعض میں قراءت اور خاموشی کو جمع کر دیا گیا ہے اور بعض میں صرف قراءت کو لے لیا گیا ہے جیسے صبح کی نماز ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب کسی تنزل کی ابتداء ہوتی ہے تو وعظ و تذکیر اور مراقبہ کے متفقہ نسخے سے قوم کی اصلاح ہوتی ہے۔ابھی لوگ نور سے تازہ تازہ نکلے ہوتے ہیں اور قلب کی حالت پر غور کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن جس وقت تنزل اپنی انتہاء کو پہنچ جائے۔جیسے رات کی تاریکی ہوتی ہے تو اس وقت فَذَكَّرُ إِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْری کا زمانہ ہوتا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہو وہ لوگوں کو جگائیں اور یہ زمانہ انبیاء کا زمانہ ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی اسی زمانہ کے متعلق فرمایا وَالَّليْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ایسے زمانہ میں تاریکی کی لمبائی کی وجہ سے اور نیند کے جمود کی وجہ سے لوگوں کے حواس معطل ہو جاتے ہیں۔ایسے زمانہ میں لوگوں کو جگانے والا ہی جگا سکتا ہے۔پس اس نماز میں مراقبہ کا حصہ ہٹا دیا گیا ہے۔( الفضل ۵ ستمبر ۱۹۳۶ء) کیا امام اپنی زبان میں بلند آواز سے دعاکرسکتا ھے سوال :۔ایک جماعت کا امام نماز میں بلند آواز سے اردو زبان میں دعائیں مانگتا ہے؟ جواب :۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو فتویٰ ہے وہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔حال ہی میں الفضل میں بھی وہ شائع ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی ارشاد