فرموداتِ مصلح موعود — Page 76
اسلامی عبادات اور مسجد میں حضرت مسیح موعود علیه السلام کافتوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امر کو جائز سمجھتے تھے کہ نمازی مسنون دعاؤں کے بعد جوعربی زبان میں پڑھی جاتی ہیں اپنی زبان مثلاً اردو یا پنجابی میں بھی دعائیں کرے۔بلکہ تاکید فرمایا کرتے تھے کہ نماز کے اندر اپنی زبان میں بھی دعا کیا کرو۔کیونکہ اس میں انسان اپنے جذبات کو اچھی طرح سے ظاہر کر سکتا ہے۔ایک دفعہ کسی دوست نے عرض کی کہ حضور لوگ کہتے ہیں کہ نماز کے اندر اپنی زبان بولی جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔حضور نے ہنس کر فرمایا ان لوگوں کی نمازیں تو پہلے ہی ٹوٹی ہوئی ہیں۔الفضل ۴ جنوری ۱۹۳۹ء۔تقریر حضرت مفتی محمد صادق صاحب ) امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز میں بلند آواز سے قرآن حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعائیں بھی مانگے۔نماز میں بلند آواز سے اپنی زبان میں دعائیں مانگنا جائز نہیں۔اس میں مقتدیوں کے لئے شبہات اور وساوس کی گنجائش ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ یہی ہے کہ نماز با جماعت میں امام کو ادعیہ ماثورہ ہی مانگنی چاہئیں۔ہاں اپنے طور پر کوئی شخص جب اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو اپنی زبان میں دعائیں مانگ سکتا ہے۔میری رائے اور عمل یہ ہے کہ ایسے مواقع پر قرآن کریم اور احادیث کی دعاؤں کے علاوہ میں وہ دعائیں بھی مانگ لیا کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتائی ہیں۔کیونکہ قرآن کریم کی دعاؤں اور ماثورہ دعاؤں میں جو حکمت ہے وہی حکمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعاؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان اگر اپنے طور پر اپنی تڑپ اور ذاتی خواہشات کے مطابق دعامانگنا چاہے تو اپنی زبان میں ہی دعا مانگنا اس کے لئے اچھا ہے کیونکہ جو شخص جس زبان کا ماہر ہوتا ہے وہ اسی زبان میں اپنے خیالات کا اچھی طرح اظہار کر سکتا ہے اور اپنے دعا کے جوش کو پورا کر سکتا ہے۔پھر وہ