فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 60

۶۰ اسلامی عبادات اور مسجد میں فرض نہیں ہے۔(تفسیر کبیر۔جلد چہارم ، سورہ بنی اسرائیل۔صفحہ۳۷۳) نماز کے لئے اوقات مقرر کرنے کی حکمت نماز مل کر پڑھنے کا حکم ہے یعنی یہ کہ اکٹھے ہو کر باجماعت پڑھو۔اب اگر امام کو آنے میں دیر ہو جائے اور کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ لے تو یہ اس کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے۔شریعت نے ہر نماز کے لئے وقت کا اندازہ مقرر کیا ہے کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک نماز ہوسکتی ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اگر تھوڑی دیر آگا پیچھا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔اگر یہ مدنظر نہ ہوتا تو شریعت میں خاص وقت مقرر کر دیا جاتا کہ عین فلاں وقت پر فلاں نماز ادا کرو۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔الفضل ۳ جولائی ۱۹۶۳ ء - فرموده ۲۶ فروری ۱۹۲۶ء) اپنی رائے جماعت کی رائے پرقربان کرنا چاھئے سوال:۔ساڑھے پانچ بجے صبح کی جماعت کھڑی ہو جاتی ہے اس وقت صبح صادق نہیں ہوتی۔جماعت کے ساتھ شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ جواب: من فارق الجماعة شبرا فليس منا۔آخر دوسرے لوگ وقت سمجھ کر ہی نماز پڑھتے ہوں گے۔یوں ہی نماز کو ضائع نہیں کرتے ہوں گے۔اس واسطے ایک شخص کو اپنی رائے باقی جماعت کی رائے پر قربان کردینی چاہئے اور علیحدگی نہیں اختیار کرنی چاہئے۔(الفضل ۴ رمئی ۱۹۲۲ء) نمازمیں سوزوگداز کے لئے راگ کا استعمال سوال :۔مجھ میں خود بخود یہ ملکہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کوئی گا تا ہو تو اسی لئے میں فورا نقل اُتار سکتا