فرموداتِ مصلح موعود — Page 61
۶۱ اسلامی عبادات اور مسجد میں ہوں۔میں اس ملکہ سے فائدہ اُٹھا کر نماز اور دعا میں سوز و گداز پیدا کرنے میں مدد لیتا ہوں اور دھیمی آواز سے اس کا استعمال کر لیتا ہوں مگر اس وجہ سے کہ کہیں صراط مستقیم کو نہ چھوڑ بیٹھوں۔استدعا کرتا ہوں کہ میں راگ واشعار وغیرہ سے کہاں تک فائدہ اُٹھا سکتا ہوں؟ جواب :۔راگ کا استعمال کرنا نماز اور دعا میں مکروہ ہے۔نماز کے علاوہ بھی راگ بداثر ڈالتا ہے۔اس سے قوت فہم اور فراست باطل ہو جاتی ہے۔مگر خوش الحانی منع نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی دعاؤں میں سوز و گداز پیدا ہوتا تھا یا نہیں۔اگر ان میں پیدا ہوتا تھا تو آپ میں بغیر راگ کے کیوں نہیں ہوسکتا۔( الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۲۲ء) ادائیگی نماز بذریعه ریڈیو سوال :۔اگر قادیان کی مسجد مبارک میں ریڈیو لگا دیا جائے تو کیا اس پر تمام دوسرے ممالک میں نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ جواب نہیں کیونکہ اس سے دو نقصان واقع ہوتے ہیں۔اول۔اگر اس امر کی اجازت دے دی جائے تو لوگ گھروں میں ہی نماز پڑھ لیا کریں اور مسجدوں میں نہ آئیں اور اسی طرح جماعت سے جو اتحاد اور اخوت پیدا کرنے کی غرض ہے وہ مفقود ہو جاتی ہے۔دوسرا نقص یہ واقع ہو سکتا ہے کہ لوگ قرآن کریم یاد کرنا چھوڑ دیں۔وہ یہی خیال کر لیں کہ ہمیں قرآن یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔جب قادیان کی مسجد میں قرآن پڑھا جائے گا تو ہم بھی سن لیں گے۔اس طرح چونکہ قرآن کریم کے علم سے توجہ ہٹ جاتی ہے اس لئے اس طریق پر