فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 412

۴۱۲ اصول فقه استخراجی مسائل متفرق یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب بھی کسی مذہب پر لمبا زمانہ گزر جاتا ہے۔اس کے ساتھ فقہی پیچیدگیاں شامل ہو جاتی ہیں۔فقہ کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جو مسائل الہی کتاب میں نص کے طور پر نہیں آئے ان کا استخراج کیا جائے۔لیکن آہستہ آہستہ جب فقہ میں ضعف آتا ہے خود اصل مسائل میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔اس قسم کے نقائص کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اباحت کی طرف لے جاتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو ظاہر کی طرف انتہاء درجہ کی شدت کے ساتھ بلاتے ہیں۔محکمه فتاوی ( تفسیر کبیر جلد نہم۔سورۃ البینہ - صفحہ ۳۶۴) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد زمانہ خلفاء میں قاعدہ تھا کہ شرعی امور میں فتویٰ دینے کی ہر شخص کو اجازت نہ تھی۔حضرت عمرؓ تو اتنی احتیاط کرتے تھے کہ ایک صحابی نے ( غالباً عبداللہ بن مسعودؓ نے) جو دینی علوم میں بڑے ماہر اور ایک جلیل القدر انسان تھے ایک دفعہ کوئی مسئلہ لوگوں کو بتایا اور اس کی اطلاع آپ کو پہنچی تو آپ نے فوراً ان سے جواب طلب کیا کہ تم امیر ہو یا امیر نے تم کو مقرر کیا ہے کہ فتویٰ دیتے ہو۔دراصل اگر ہر ایک شخص کو فتویٰ دینے کا حق ہو تو بہت مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور عوام کے لئے بہت سے فتوے ابتلاء کا موجب بن سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ایک ہی امر کے متعلق دو مختلف فتوے ہوتے ہیں اور دونوں صحیح ہوتے ہیں مگر عوام کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دونوں کس طرح درست ہیں۔اس لئے وہ اس پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں مثلاً نماز ہی میں کئی باتیں مختلف طور پر ثابت ہیں۔اب کئی لوگ اس پر لڑتے