فرموداتِ مصلح موعود — Page 411
۴۱۱ متفرق وطن کی آزادی کے لئے لڑنے والا شهید اس (انڈونیشیا) کی آزادی کی تحریک میں حصہ لیتے ہوئے مرنے والا شہید ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو من قتل دون اصله وماله فهو شهید کا کیا مطلب ہے؟ جواب :۔آزادی کی کوشش میں حصہ لینے والا شہید تو ضرور ہے۔مگر یہ شہادت دینی نہیں۔ورنہ ہر انگریز اور جرمن بھی شہید ہونا چاہئے۔شہید سے مراد یہ ہے کہ قوم کا ہیرو ہوگا، یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہیر و ہو گا۔خدا تعالیٰ کا ہیر ووہی ہو گا جو دین کے لئے شہید ہو۔الفضل ۲۵ /جنوری ۱۹۴۶ء صفحه ۳) جس شخص کودین کے کام پر لگایا جائے وہ مستعفی نهیں هوسکتا شرعی حکومت میں استعفیٰ کا قانون نہیں۔حکومت کے ماتحت وہ کام کرتے ہیں جوان کو پسند ہوتے ہیں۔لیکن شریعت میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ کام کریں جو لوگوں کو پسند ہو بلکہ وہ کرنا پڑتا ہے جس کا شریعت حکم دے اور اس شخص کا حق نہیں ہوتا کہ وہ جواب دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کو کمانڈرانچیف مقرر کیا۔یہ نہیں کہ وہ اہلیت زیادہ رکھتے تھے بلکہ وہ ایک حکم تھا جس کی اطاعت اسامہ پر فرض تھی۔اسامہ نے بھی انکار نہیں کیا اور اسامہ کے ماتحت عمر اور عمرو بن العاص جیسے شخصوں کو کر دیا جن کے نام سے ایشیاء کے لوگ تھرا اٹھتے تھے۔۔پس ایسی حالت میں اسامہ نے اپنے تئیں اس کام کے جو اسے سپرد کیا تھا نا قابل ظاہر کر کے علیحدگی نہیں چاہی اور یہ نہیں کہا کہ میں استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔اور اگر وہ ایسا کرتا تو اس کے معنے ہوتے کہ میں دین سے علیحدہ ہوتا ہوں۔الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۱۹ء۔جلدے نمبر ۳۹ صفحہ ۸، ۹- خطبه جمعه فرموده ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۹ء)