فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 413

۴۱۳ متفرق ہیں کہ فلاں یوں کرتا اور فلاں اسکے خلاف کرتا ہے حتی کہ وہ کسی کو اپنے خیال کے ذرا سا اختلاف کرتے ہوئے بھی دیکھیں تو اس کے پیچھے نماز توڑ دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ سمجھیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ دونوں باتوں میں کچھ ہرج نہ تھا۔غرض عوام جو واقف نہ ہوں ان کے سامنے اگر دو جائز باتیں بھی پیش کی جاتیں تو وہ لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔اس لئے فتویٰ دینے کے لئے ایک خاص محکمہ مقرر کیا گیا ہے۔ہر قسم کے فتوے دینا اس کا کام ہوگا اور اور کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی فتوی دے۔(عرفان الہی - صفحہ ۸۱) یه عورتیں ملازمت کرسکتی ہیں ا۔عورتیں کہتی ہیں کہ ہم نوکریاں کریں گی۔حالانکہ اگر وہ نوکریاں کریں گی تو ان کی اولادمیں تباہ ہو جائیں گی۔وہ بچوں کی تربیت کیونکر کر سکیں گی۔یہ غلط قسم کی تعلیم ہی ہے جس نے عورتوں میں اس قسم کے خیالات پیدا کر دیئے ہیں۔ولایت میں عورتوں کے اس قسم کے طریق اختیار کرنے پر ایک شور برپا ہے۔چنانچہ جن ملکوں کے لوگوں میں اولا دیں پیدا کرنے کی خواہش ہے وہ یہی چاہتے ہیں کہ عورتوں کے لئے تمام ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے جائیں اور جس کام کے لئے عورتیں پیدا کی گئیں ہیں وہ ہی کام کریں۔( مصباح ۱/۱۵/جنوری ۱۹۳۹ء - الازهار لذوات الخمار - صفحہ ۳۲۶) ۲۔پھر تعلیم جو تم پاتی ہو اس سے تمہارا مقصد نوکری کرنا ہوتا ہے۔اگر نوکری کروگی تو بچوں کو کون سنبھالے گا ؟ خود تعلیم انگریزی بُری نہیں لیکن نیت بد ہوتی ہے اور اگر نیت بد ہے تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔اگر غلط راستے پر چلو گی تو غلط نتیجے ہی پیدا ہوں گے۔جب لڑکیاں زیادہ پڑھ جاتی ہیں تو پھر ان کے لئے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ہاں اگر لڑکیاں نوکریاں نہ کریں اور پڑھائی کو صرف