فرموداتِ مصلح موعود — Page 403
۴۰۳ متفرق لڑکیوں کا نام میں امہ کے نام پر رکھا کروں گا تا کہ خدا تعالیٰ کا نام ہمارے گھروں میں قائم رہے۔چنانچہ ہمارے خاندانوں میں سے جو لوگ مجھ سے اپنی لڑکیوں کا نام رکھواتے ہیں میں ہمیشہ امتہ کے ساتھ ان کے نام رکھتا ہوں اور جنہوں نے یہ نام نہیں رکھوانا ہوتا وہ مجھ سے پوچھتے ہی نہیں۔بعض دفعہ حقیقت کو نظر انداز کر کے بغیر سوچے سمجھے نام رکھ دیئے جاتے ہیں حالانکہ وہ مشرکانہ ہوتے چنانچہ اس جلسہ میں تین لڑکیاں ایسی معلوم ہوئیں جن کے نام مشر کا نہ تھے۔ان کا نام امة البشير ، امۃ الشریف تھا۔شعر گوئی (الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۵۱ء صفحه ۴ ) نظم کے متعلق میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں نظمیں عام طور پر پڑھی جاتی ہیں۔میں بھی نظم کو بہت پسند کرتا ہوں اور خود شاعر ہوں۔مگر اب نہ صرف کوئی شعر کہتا ہی نہیں بلکہ کہ ہی نہیں سکتا۔جس سے میں نے سمجھ لیا ہے کہ اس طرف سے میری طبیعت ہٹ گئی ہے لیکن اس سے پسندیدگی کے بارہ میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔تو میں خود شاعر ہوں یا شاعر تھا ، شعروں کو پسند کرتا ہوں اور مجھے رویاء میں بتایا گیا ہے کہ قوم کی زندگی کی علامتوں میں سے ایک علامت شعر گوئی بھی ہے اور میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم شعر کہا کرو رویاء میں مجھے بتایا گیا ہے کہ اپنی جماعت کے لوگوں کو شعر کہنے کی تحریک کروں۔(الفضل ۴ ۱ تا ۷ ارجون ۱۹۱۹ء۔جلد ۶ نمبر ۹۵ - صفحہ۴) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام میں کوئی ایک شعر بھی نہیں اور قرآن کریم خود کہتا ہے کہ یہ کلام کسی شاعر کا نہیں۔اس لئے یا درکھنا چاہئے کہ جب قرآن کریم کے متعلق یا پہلے نبیوں کی نسبت شاعر کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد عرف عام والا شاعر نہیں ہوتا بلکہ محض جذبات سے کھیلنے والا انسان ہوتا ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ بھی کبھی شعر کہتے تھے مگر وہ شاعر نہیں کہلا سکتے وہ خود کہتے ہیں۔