فرموداتِ مصلح موعود — Page 402
۴۰۲ متفرق پھر ان کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام کیوں نہیں رکھتے ؟ جواب :۔فرمایا۔نام تو آپ لوگ نہیں رکھتے اور پوچھتے آپ مجھ سے ہیں۔میں نے تو کئی نام اس قسم کے رکھے ہیں کرشن احمد اور منظور کرشن وغیرہ۔جولوگ شرح صدر سے اس قسم کے نام قبول کر لیتے ہیں میں ان کے ایسے نام رکھ دیتا ہوں۔دراصل جو نام لوگ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں ان ناموں پر نام رکھنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ہندوؤں سے زبان کی وجہ سے چونکہ بعد ہے۔اس لئے عام طور پر لوگوں کی توجہ اس طرف نہیں جاتی۔اسی طرح آجکل لڑکیوں کے ناموں کے ساتھ بعض ایسے الفاظ لگانے کا شوق پایا جاتا ہے جو ہمارے نزدیک پسندیدہ نہیں مثلاً اختر ، انجم، زہرہ اور ثریا وغیرہ حالانکہ عام طور پر ایسے نام کمپنیوں کے ہوتے ہیں۔آجکل لڑکیاں فاطمہ، خدیجہ یا زینب وغیرہ نام سے گھبراتی ہیں۔ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ لڑکیوں کو سمجھائیں کہ وہ ایسے نام نہ رکھا کریں۔اصل بات یہ ہے کہ لوگ نام کی حکمت کو نہیں دیکھتے بلکہ رواج اور فیشن کو دیکھتے ہیں۔(الفضل ۸/اکتوبر ۱۹۶۰ ء صفحه ۳) ہماری جماعت میں لڑکیوں کے ناموں کے متعلق ایک غلطی ہو رہی ہے جو مشرکانہ ہے اور جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ غلطی کیوں ہورہی ہے۔اگر دوسروں میں یہ غلطی ہو تو اس قد رافسوس پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ پہلے ہی اسلام سے دور ہیں لیکن ہم لوگ تو وہ ہیں جو اسلام کو خوب سمجھتے ہیں۔پھر ہمارے اندر وہ نقص کیوں پیدا ہو۔ہماری ایک بہن کا نام مبارکہ بیگم ہے اور ایک کا نام امتہ الحفیظ۔ایک بہن جو چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوگئی تھی اس کا نام عصمت تھا۔اسی طرح ایک دوسری بہن کہ وہ بھی چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گئی تھی اس کا نام شوکت تھا۔گویا سوائے ایک بہن کے اور کسی کے نام میں خدا تعالیٰ کا نام نہیں آتا۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے وابستگی کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لڑکوں کے ناموں میں احمد کا نام آتا ہے، خدا تعالیٰ کا نہیں آتا۔پس مجھے بُر الگا کہ خدا تعالیٰ کا نام ہمارے خاندان کے ناموں سے جاتا رہے۔چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ