فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 346

۳۴۶ پرده بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کے لئے منہ کا پردہ نہیں۔حالانکہ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے کیا معنے سمجھے اور پھر صحابیات نے اس پر کس طرح عمل کیا۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے۔اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے۔جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔بے شک ہم اس حد تک قائم ہیں کہ چہرہ کو اس طرح چھپایا جائے کہ اس کا صحت پر کوئی بُرا اثر نہ پڑے مثلاً باریک کپڑا ڈال لیا جائے۔یا عرب عورتوں کی طرز کا نقاب بنالیا جائے جس میں آنکھیں اور ناک کا نتھنا آزاد رہتا ہے مگر چہرہ کو پردے سے باہر نہیں رکھا جاسکتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورہ نور صفحه ۳۰۰ تا ۳۰۱) اسلام کہتا ہے کہ مردوں کو چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں کو نہ دیکھیں اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھیں اور اس طرح اپنے ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کریں مگر بعض لوگوں نے جو حقیقت پر غور کرنے کے عادی نہیں۔غلطی سے اس حکم سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر محرم عورت کے کسی حصہ پر بھی نظر ڈالنا اسلامی احکام کی رو سے جائز نہیں حالانکہ یہ درست نہیں۔اگر شریعت اسلامیہ کا یہی منشاء ہوتا ہے کہ عورت کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر نہ ڈالی جائے تو عورتوں کو چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت ہی نہ ہوتی اور مکان بھی بند در بچوں کے بنائے جاتے جس قسم کے ظالم بادشاہ پرانے زمانہ میں قید خانے بنایا کرتے تھے۔حالانکہ عورت بھی اس قسم کی انسان ہے جس قسم کا مرد ہے اور اس کی طبعی ضروریات بھی مرد ہی کی طرح ہیں اور خدا تعالیٰ کا طبعی قانون بھی دونوں پر یکساں اثر کر رہا ہے اور وہ قانون صحت کی درستی ہے اور جسم کی مضبوطی کے لئے اس امر کا مقتضی ہے کہ انسان کھلی ہوا میں پھرے اور محدود دائرہ میں بند ہونے کا خیال اس کے اعصاب میں کمزوری پیدا نہ کرے۔اور جبکہ شریعت عورت کو باہر پھرنے کی اجازت دیتی ہے تو لازماً جب وہ باہر نکلے گی اس کی نظر مردوں کے جسم کے بہت سے حصوں پر اُسی طرح پڑے گی