فرموداتِ مصلح موعود — Page 345
۳۴۵ پرده چهره پردہ میں شامل ھے زیادہ سے زیادہ پردہ تو یہ ہے کہ منہ سوائے آنکھوں کے اور وہ لباس جو جسم کے ساتھ چسپاں ہو چھپایا جائے باقی الا ماظهر “ کے ماتحت کسی مجبوری کی وجہ سے جتنا حصہ ننگا کرنا پڑے کیا جا سکتا ہے مثلاً ایک زمیندار عورت منہ پر نقاب ڈال کر گوڈی وغیرہ زمینداری کا کام نہیں کر سکتی۔اس کے لئے جائز ہے کہ ہاتھ اور منہ ننگے رکھے تا کہ کام کر سکے۔لیکن جن عورتوں کو اس قسم کے کام نہ کرنے ہوں بلکہ یوں سیر کے لئے باہر نکلنا ہوان کے لئے یہی چاہئے کہ منہ کو ڈھانکیں۔دیکھنا یہ چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کیا معنی سمجھے اور پھر صحابہ نے کیا سمجھے اور اس پر کس طرح عمل کیا۔اس کے متعلق جب دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت منہ پردہ میں شامل تھا۔صاف طور پر لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک نواسہ کے لئے شادی کی تجویز کی تو ایک عورت کو بھیجا کہ وہ جا کر دیکھ آئے لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔اگر اس وقت چہرہ چھپایا نہ جاتا تھا تو پھر عورت کو بھیج کر رنگ معلوم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اسی طرح حضرت عمر نے ایک عورت سے کہا ام ہانی میں نے تمہیں پہچان لیا ہے نہ یہ کہ شکل دیکھ کر کیونکہ ایسے انسان کو جو واقف ہو یہ کہنا کہ میں نے تمہاری شکل دیکھ کر تمہیں پہچان لیا ہے کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔اس قسم کے بہت سے واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ کھلے منہ عورتیں نہ پھرتی تھیں۔ہاں کام کے لئے باہر نکلتی تھیں۔مردوں سے باتیں کرتی تھیں۔جنگوں میں شامل ہوتی تھیں۔اصل میں بات یہ ہے کہ پردہ کے متعلق بے جا جو تشدد کیا گیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ پردہ کو بالکل اُڑا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔موجودہ جو پردہ ہے میں تو اسے سیاسی پردہ کہا کرتا ہوں کیونکہ حالات اس قسم کے ہیں کہ انگریزی قانون میں عصمت کی قیمت روپیہ رکھا گیا ہے۔اس لئے احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو وہاں عورتیں بھی باہر آزادی کے ساتھ چل پھر سکتی ہیں۔الفضل ۶ جولائی ۱۹۲۸ء - جلد ۱۶ نمبر ۲ - صفحیم)