فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 341

۳۴۱ پرده پردہ میں تشدد اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض علاقوں میں پردہ کے متعلق ایسے تشدد سے کام لیا جاتا تھا کہ وہ ڈولیوں کو بھی پردوں میں سے گزارتے تھے چنانچہ میں نے دیکھا کہ عورتوں کو ڈولی میں لاتے اور پھر ڈولی کے ارد گرد پردہ تان کر انہیں گاڑی میں سوار کراتے اور بعض قوموں میں اس سے بھی بڑھ کر یہ پردہ ہوتا تھا کہ وہ کہتے تھے عورت ڈولی میں آئے تو پھر جنازہ ہی گھر سے نکلے مگر یہ لوگوں کے خودساختہ پردے ہیں جو صریح ظلم ہیں اور ان کا اثر عورتوں کی صحت اور ان کے اخلاق اور ان کے علم اور ان کے دین پر بہت گندہ پڑا ہے۔قرآن اور حدیث سے اس قسم کے کسی پردے کا پتہ نہیں چلتا۔قرآن کریم سے صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو باہر نکلنے کی اجازت ہے اگر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی تو غض بصر کے حکم کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔( تفسیر کبیر شم تفسیر سوره نور صفحه ۳۰۰۳) چھوٹی عمر میں لڑکیوں کا برقعہ اوڑھنا اسلامی تعلیم کے ماتحت پر دے کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت ہر قسم کے کاموں کے شریک حال ہو سکتی ہے۔وہ مردوں سے پڑھ سکتی ہے ان کا لیکچر سن سکتی ہے اور اگر کسی جلسہ میں کوئی ایسی تقریر کرنی پڑے جومرد نہیں کر سکتا تو عورت تقریر بھی کر سکتی ہے۔مجالس وعظ اور لیکچروں میں مردوں سے الگ ہو کر بیٹھ سکتی ہے ضرورت کے موقعہ پر اپنی رائے بیان کر سکتی ہے اور بحث کر سکتی ہے کیونکہ ایسے امور جن میں عورتوں کا دخل ہو ان امور میں عورتوں کا مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح عورت ضرورت کے ماتحت مرد کے ساتھ مل کر بھی بیٹھ سکتی ہے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں ایک نو جوان لڑکی کو جو پیدل جارہی تھی اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔(مسند احمد۔جلد ۲ صفحہ ۳۸۰)