فرموداتِ مصلح موعود — Page 342
۳۴۲ پرده جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے ہاں اگر گھونگھٹ نکال لے اور آنکھوں سے راستہ وغیرہ دیکھے تو یہ جائز ہے لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا یا مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور اُدھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور ان مردوں سے بے تکلفی کے ساتھ غیرضروری باتیں کرنا یہ نا جائز ہے۔اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے۔میرے نزدیک یہ بھی ظلم کیا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو برقعہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔اس سے ان کی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے اور ان کا قد بھی اچھی طرح نہیں بڑھ سکتا۔جب لڑکی میں نسائیت پیدا ہونے لگے اس وقت اسے پردہ کرانا چاہئے اس سے پہلے نہیں۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورہ نور صفحه ۳۰۵،۳۰۴) پرده کن افراد سے کیا جائے سوال :۔کیا ان بارہ افراد (مذکورہ سورہ نور کے علاوہ سب سے پردہ لازمی ہے یا اور استثنائی صورتیں بھی ہیں مثلاً نبی موعود، خلفاء یا عام خلفاء کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جواب :۔میرے نزدیک جو بمنزلہ ایسے رشتہ داروں کے ہوں ان سے نیم پردہ جائز ہے یعنی بے تکلفی نہ ہو۔مگر سر ڈھانک کر سامنے ہو جائے تو منع نہیں گووا جب بھی نہیں۔سوال :۔اس وقت عام رواج کے مطابق دیور، بہنوئی ، چا یا ماموں کے لڑکوں یا اسی طرح کے نزد یکی رشتہ داروں سے پردہ نہیں کیا جاتا اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ جواب :۔ان سے پردہ ہے ہاں یہ پردہ دوسروں سے کم ہے یعنی جو کم سے کم پر دہ ہے وہ ان سے ہے۔سوال :۔بعض حالات میں رشتہ دار عورتیں رشتہ داری کی وجہ سے پردہ نہیں کرتیں حالانکہ قرآنی احکام کے مطابق ان کو پردہ کرنا چاہئے۔تو کیا ان کو مجبور کیا جائے کہ پردہ کریں اور انسان خود سامنے آنے سے پر ہیز کرے یا جو پردہ نہ کریں ان کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں؟ جواب :۔جو خود پر دہ نہیں کرتی اگر اس پر اختیار ہو تو رو کے ورنہ اس پر گناہ نہیں۔ہاں خلوت میں