فرموداتِ مصلح موعود — Page 340
۳۴۰ پرده جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے۔ہاں اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھ سے رستہ وغیرہ دیکھے تو یہ جائز ہے لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں یہ نا جائز ہے۔اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے۔غرض عورتوں کا مکسڈ مجالس میں جانا مردوں کے سامنے اپنا منہ نگا کر دینا اور ان سے ہنس ہنس کر با تیں کرنا یہ سب ناجائز امور ہیں لیکن ضرورت کے موقع پر شریعت نے بعض امور میں انہیں آزادی بھی دی ہے بلکہ قرآن کریم نے الا ما ظهر منها “ کے الفاظ استعمال فرما کر بتا دیا کہ جو حصہ مجبوراً ظاہر کرنا پڑے اس میں عورت کے لئے کوئی گناہ نہیں۔اس اجازت میں وہ تمام مزدور عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں کھیتوں اور میدانوں میں کام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے لئے آنکھوں اور ان کے اردگرد کا حصہ کھلا رکھنا ضروری ہوتا 66 ہے ورنہ ان کے کام میں دقت پیدا ہوتی ہے اس لئے الا ما ظهر منها “ کے تحت ان کے لئے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہوگا۔اور چونکہ انہیں بعض دفعہ پانی میں بھی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے ان کے لئے یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ پاجامہ اڑس لیں اور ان کی پنڈلی تنگی ہو جائے۔بلکہ ہمارے علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ آسکے اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی مرد ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی زندگی خطرہ میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ نہیں جنوائے گی تو یہ گناہ ہوگا۔اور پردے کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔حالانکہ عام حالات میں منہ کے پردے سے ستر کا پردہ زیادہ ہے۔لیکن اس کے لئے اعضاء نہانی کو بھی مرد کے سامنے کر دینا ضروری ہوگا۔بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مرجائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی سمجھی جائے گی جیسے اس نے خود کشی کی ہے۔الفضل ۲۷ ؍جون ۱۹۵۸ء صفحه ۵ )