فرموداتِ مصلح موعود — Page 327
۳۲۷ معاملات بعد اس کی ملکیت میں تبدیلی قابض پر ایک ناواجب بوجھ بن جائے گا۔۴۔نابالغ بچہ کے مقدمہ میں اس کی جوانی کے چھ سال تک مقدمہ کو سنا جاسکتا ہے اور جوانی کی حد ہماری عدالتوں میں اکیس سال کی ہوگی۔یعنی مقدمات مالی کے لئے۔۔اگر کوئی شخص باہر گیا ہوا ہو تو اس کے لئے پچیس سال کا عرصہ رہے۔اس عرصہ میں وہ نالش کر سکتا ہے۔۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ قابض کو علم تھا کہ وہ جائیداد اس کی نہیں اور اس پر وہ قابض ہوا تو اس پر ہرجانہ میعاد فائدہ کا ڈالا جاسکتا ہے اور جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ ثابت ہو کہ مالک کو علم تھا کہ اس کی جائیداد پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور وہ خاموش رہا اور اس نے مقدمہ نہ کیا تو اسے اپنے ہرجانہ کے مطالبہ کے ایک حصہ سے محروم بھی کیا جا سکتا ہے۔یہ قاضی کی مرضی پر ہوگا۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبرا۔صفحہ ۳۔دارالقضاء، ربوه محرره ۲۰ جون ۱۹۳۲ء) انشورنس کے متعلق جماعت احمدیه کانظریه انشورنس نہ تو عربی کا لفظ ہے نہ ہی شرعی اصطلاح ہے۔اس لئے نام کے متعلق تو نہ ہی اس کے خلاف اور نہ اس کے حق میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً کوئی ایسا جانور ہو جو ہمارے ملک میں نہ پایا جاتا ہو بلکہ افریقہ یا آسٹریلیا سے پکڑا ہوا آئے تو حدیث اور فقہ کا فتویٰ تو اس پر لگ نہیں سکتا۔کیونکہ اس کے نام کو وہ جانتے نہ تھے۔اس کے متعلق فتویٰ صرف اس صورت میں لگ سکے گا کہ ہمیں اس جانور کے حالات معلوم ہوں۔وہ حالات اگر حلال جانور کے مشابہ ہوں گے تو حلال ہوگاور نہ حرام۔مثلاً اگر کوئی جانور شکار کھانے والا ہو، گندگی کھانے والا اور خلاف فطرت فعل کرنے والا ہوتو وہ حرام ہوگا۔اگر پھل، ترکاری ہسبزی وغیرہ کھانے والا ہو۔اس میں درندگی کے افعال نہ پائے جائیں۔گندگی نہ کھاتا ہو اور نہ گندے افعال کرتا ہوتو حلال ہوگا۔پس اسی رنگ میں انشورنس کے متعلق فتوئی ہو گا۔میں یہ نہیں کہ سکتا کہ انشورنس حلال ہے یا حرام۔