فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 328

۳۲۸ معاملات ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت تک جتنی انشورنس کی کمپنیوں کے قواعد میں نے پڑھے ہیں۔قواعد کی رو سے ان میں حرمت کی وجہ پائی جاتی ہے۔اگر کوئی ایسی انشورنس کمپنی ہے جس کے قواعد اسلام کے مطابق ہو تو ہم اسے جائز سمجھیں گے۔ہمیں انشورنس کے لفظ سے چڑ نہیں۔ہمیں تو اس کی تفصیل سے غرض ہے۔پس جو یہ فتویٰ پوچھتا ہے اس سے پوچھا جائے کہ جس کمپنی کے انشورنس کے متعلق وہ پوچھتا اس کے قواعد کیا ہیں۔پھر ہم اس کے جائز یا نا جائز ہونے کا بتا سکیں گے۔یہ اس کو بتا دیا جائے کہ کینیڈا، پاکستان اور ہندوستان کی انشورنس کمپنیوں کے قواعد جتنے میں نے پڑھے ہیں حرمت کے فتوے والے قواعد ہیں۔(الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۵۲ء صفحه۲) انشورنس کیوں جائز نھیں یہ بات درست نہیں کہ ہم انشورنس کو سود کی ملونی کی وجہ سے ناجائز قرار دیتے ہیں۔کم از کم میں تو اسے اس وجہ سے ناجائز قرار نہیں دیتا۔اس کے ناجائز ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ ا۔انشورنس کے کاروبار کی بنیا د سود پر ہے اور کسی چیز کی بنیاد سود پر ہونا اور کسی چیز میں ملونی سود کی ہونا ان میں بہت بڑا فرق ہے۔گورنمنٹ کے قانون کے مطابق کوئی انشورنس کمپنی ملک میں جاری نہیں ہوسکتی۔جب تک ایک لاکھ کی سیکوریٹیز گورنمنٹ نہ خریدے۔پس اس جگہ آمیزش کا سوال نہیں بلکہ لزوم کا سوال ہے۔۲۔دوسرے انشورنس کا اصول سود ہے کیونکہ شریعت اسلامیہ کے مطابق اسلامی اصول یہ ہے کہ جو کوئی رقم کسی کو دیتا ہے یاوہ ھدیہ ہے یا امانت ہے یا شراکت ہے یا قرض ہے۔حد یہ یہ ہے نہیں۔امانت بھی نہیں کیونکہ امانت میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔یہ شراکت بھی نہیں کیونکہ کمپنی کے نفع و نقصان کی