فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 326

معاملات ہمیں لڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔جس طرح غیر احمدی باپ کا وارث احمدی بیٹا ہوسکتا ہے۔اسی طرح احمدی باپ کا غیر احمدی بیٹا وارث ہوسکتا ہے۔غیر مذاہب والوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔فقہاء نے مختلف فتوے دیئے ہیں۔بعض کہتے ہیں کا فرمسلمان کا وارث ہوسکتا ہے اور بعض کہتے ہیں نہیں اور اس کی بناء انہوں نے بعض احادیث پر رکھی ہے۔لیکن میرے نزدیک یہی بات ہے جو میں نے بتائی۔الفضل ۴ دسمبر ۱۹۲۳ء۔نمبر ۴۵ ۴۴۔جلدا اصفحه ۶) سوال:۔اگر ایک آدمی کی نالی دوسرے آدمی کے مکان سے گزرتی ہو یا ایک آدمی کا پر نالہ دوسرے کے مکان یا صحن میں سے گزرتا ہو یا کسی نے دوسرے کی زمین پر مخالفانہ قبضہ کر لیا ہو۔اور اس کو مدت مدید گزر جائے۔ایسے مقدمات میں شریعت حقدار کو حق دلائے گی۔لیکن ضرورت اور آپس کے تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ایسے حقوق کے ٹوٹ جانے کی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے۔لیکن شریعت نے اس کی کوئی تحدید نہیں کی۔اسلامی ممالک میں جہاں شریعت کے مطابق فیصلہ جات ہوتے ہیں یہ حق خلیفہ یا امیر کا رکھا گیا ہے کہ وہ اس میعاد کی تعین کرے۔چنانچہ شامی میں لکھا ہے کہ سلطان ترکی نے ارث وقف کے سوا باقی میں تیرہ سال کی حد رکھی ہے سو اس کے متعلق حضور کا کیا فیصلہ ہے کہ یہ میعاد کتنی ہونی چاہئے؟ جواب :۔میرے نزدیک یہ سوال گہرے غور و فکر کے بعد طے ہونے والا ہے لیکن عارضی طور پر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ۔اگر کسی شخص کے سامنے جائیداد موجود ہو تو اس کا تیرہ سال کے بعد مقدمہ کاحق نہ ہوگا بشرطیکہ جائیداد کی صورت بدل گئی ہو یا اسے نئے قابض نے آگے فروخت کر دیا ہو۔۲۔اگر اس کی صورت نہ بدل گئی ہو اور نہ اُسے فروخت کیا گیا ہو تو قاضی کی مرضی پر ہوگا کہ اگر وہ سمجھے کہ اس زمانہ میں ثبوت ضائع نہیں ہوئے اور انصاف کے راستہ میں کوئی روک نہیں تو وہ تیرہ سال کے بعد بھی کیس کو سن لے۔۳۔۔جائیداد کی صورت بدلنے کے معنی اس میں معتد بہ تبدیلی پیدا ہونے کے ہوں گے جس کے