فرموداتِ مصلح موعود — Page 315
۳۱۵ معاملات جاسکتا۔بہر حال جائیداد ایسی ہی ہونی چاہئے جو خاص اہمیت نہ رکھتی ہوا گر کوئی شخص ایسا ہبہ کرے جس سے دوسروں میں بغض پیدا ہونے کا امکان ہو تو قرآن کریم کا حکم ہے کہ وہ اسے واپس لے لے اور رشتہ داروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اسے اس گناہ سے بچائیں۔بیوی کے نام هبه کرنا (الفضل ۱۶ را پریل ۱۹۶۰ء صفحه ۵) خاوند اگر اپنی بیوی کو کچھ دیتا ہے تو تفاضل بین الاولاد کا مسئلہ بیوی کے متعلق اس صورت میں دیگر وارث ہیں نہیں لگتا۔بھائی اصل وارث نہیں۔وہ اولاد کی عدم موجودگی میں وارث ہوتے ہیں۔قرآن مجید نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ کلالہ کے وارث ہوتے ہیں نہ کہ ذوالارث کے۔اس لئے تفاضل کا اصل یہاں نہیں لگتا۔اس میں صرف ایک ہی اصل دیکھا جائے گا کہ کس شخص نے بعض جائز حقداروں کو محروم کرنے کے لئے ایسا فعل کیا ہے۔جس سے وہ اپنے حق سے محروم ہو جاتے ہیں لیکن اگر ایک شخص اپنی جائیداد کا کوئی حصہ اپنی بیوی کے حق میں صبہ کرتا ہے تو قرآن کریم کی رو سے ایسا کر سکتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر قناطير مقتطرۃ بھی اپنی بیوی کو دو تو اس کو واپس نہ لو۔اگر کوئی شخص یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی زندگی میں یا اس کے بعد اس کی بیوی کے معیشت کا کافی سامان موجود نہیں ہے اگر بیوی کے نام کچھ جائیدا دھبہ کر دے یا بشر طیکہ اس سے اس کے ہمراہ درست وارث یعنی ماں باپ یا بیٹے بیٹیوں کے حقوق کو کوئی نمایاں نقصان نہ نظر آتا ہو تو قرآن کریم کے مذکورہ بالا حکم کی موجودگی میں ہم اسے تفاضل نہیں قرار دیتے۔آخر وجہ کیا ہے کہ قرآن کریم نے بیوی کے متعلق تو یہ فرمایا کہ تم اسے قناطير مقنطرہ بھی دے دیتے ہو تو واپس نہ لومگر یہ نہ فرمایا کہ اگر اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو قناطر مقنطرہ دے دیتے ہو تو اس سے واپس نہ لو۔پس شریعت اور عقل عامه صبہ کو کلی طور پر باطل نہیں کرتی۔(فائل فیصلہ جات دارالقضاء نمبر ۲۔صفحہ ۵۱)