فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 314

۳۱۴ معاملات سوال :۔اگر کوئی آدمی احمدی یا غیر احمدی کی زمین گروی رکھے۔بعد رھن رکھنے کے اس رھن شدہ زمین کی سالانہ آمدنی مرتہن کو یک صد روپیہ یا کچھ کم و بیش آوے تو کیا مرتہن کے پاس جتنی رقم میں زمین رھن ہو وہ سالانہ مجرا دے۔راھن کو یا نہ؟ جواب :۔رھن با قبضہ کی صورت میں منافع اس کا ہوگا۔رقم قائم رہے گی۔سوال :۔بصورت حکم شرع شریف مرتہن کو اگر رقم مجرا دینی پڑے۔مگر وہ دیدہ دانستہ لالچ میں آکر مجرا نہ دیوے تو اس احمدی کے لئے کیا حکم ہے؟ وہ جماعت سے خارج تصور ہوگا یا نہ؟ جواب :۔رھن با قبضہ کی صورت میں اصل رقم ادا ہی الگ کی جاتی ہے نہ کہ آمد سے۔الفضل ۱۳/ مارچ ۱۹۴۳ء - جلد ۳۱ نمبر ۶۲ - صفحه ۲) هبه بہ بخشش کا نام ہے۔اس کا وصیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ علیحدہ چیز ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بعض قیود مقرر کر دی ہیں مثلاً فرمایا ہے کہ ایسا ہبہ نہ کیا جائے جس سے ورثاء میں امتیاز پیدا ہو۔میں سمجھتا ہوں رسول کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اہم اشیاء کے متعلق ہے۔چھوٹی موٹی چیزوں کے متعلق نہیں مثلاً اگر ہم کیلا کھا رہے ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک بچہ جو سامنے موجود ہوا سے ہم دیدیں اور دوسرا محروم رہے۔حدیثوں میں گھوڑے کی مثال آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ یا تو وہ اپنے سب بیٹوں کو ایک ایک گھوڑا دے اور یاکسی کو بھی نہ دے۔مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں میں گھوڑے کی قیمت بہت ہوتی تھی۔پس یہ حکم اس چیز کے متعلق ہے جس میں ایک دوسرے سے بغض پیدا ہونے کا امکان ہو۔معمولی چیزوں کے متعلق ہیں مثلا فرض کرو ایک بچہ ہمارے ساتھ چلا جاتا ہے اور ہم اسے دوکان سے کوٹ کا کپڑا خرید دیتے ہیں تو یہ بالکل جائز ہوگا اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب تک ساروں کے لئے ہم کوٹ خرید کر نہ لائیں ایک بچہ کو بھی کوٹ کا کپڑا خرید کر نہیں دیا