فرموداتِ مصلح موعود — Page 308
۳۰۸ معاملات سوال:۔ایک صاحب کو جو احمدی ہیں پراویڈنٹ فنڈ کے سود سے قریب بارہ تیرہ سوروپے ملنے والے ہیں ان کا خیال ہے اگر یہ روپیہ مسجد وغیرہ مدات میں صرف کرنے کی اجازت اگر حضور دے دیں تو میں یہ رقم ان مدات میں خرچ کرنے کے لئے دے دوں گا؟ جواب : فرمایا۔آپ کا خط ملا۔ان مدات میں سود کی رقم خرچ کرنے کی اجازت ہے۔فائل مسائل دینی 4-32-149/6۔5۔56 DP) سوال:۔ایک جگہ %25 سود دینا پڑتا ہے اگر ایک مسلمان ایسے شخص سے کہے کہ میں %5 سود پر قرض دیتا ہوں تو کیا 5 فیصدی سود لینے والا جائز کام کرتا ہے کیونکہ وہ زیادہ شرح کے سود سے بچاتا ہے؟ جواب :۔دوسری جگہ زیادہ سود ادا کرنے والا اگر کم شرح سے سود لینے والے سے روپیہ لے کر سود ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے جائز ہے مگر جو اس طرح سود لیتا ہے وہ ناجائز کرتا ہے اور گنہگار ہے کیونکہ وہ اپنے فائدہ کے لئے سود لیتا ہے۔کسی بڑی مضرت سے بچنا اس کی غرض نہیں۔الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۹ء - جلد ۱۶ نمبر ۵۹ - صفحه ۶) آج کل سود کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ تو بنکوں کا سود ہے اس کے لینے میں کیا حرج ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔نام خواہ کچھ رکھ لیا جائے وہ بہر حال سود ہے اور اس کا لینا ناجائز اور حرام ہے۔( الفضل ۲ جولائی ۱۹۵۹ء صفحه ۳ ) سودی حساب کتاب رکھنے کی ملازمت کرنا ایک صاحب نے لکھا کہ وہ ایک سردار صاحب کے پاس ملازم ہیں جو روپیہ سود پر دیتے ہیں انہیں اس کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ایسی حالت میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟ حضور نے فرمایا۔آپ کے لئے سردار کا کام جائز ہے اور آپ نہایت ایمانداری سے کام کریں۔