فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 309

۳۰۹ معاملات اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔دیانتداری کے صرف یہ معنے نہیں کہ انسان دوسرے کا روپیہ نہ کھا جاوے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پورا وقت اس کے کام پر لگائے اور آنکھیں کھول کر اور عقل سے اس کا کام کرے۔الفضل ۱۷ دسمبر ۱۹۲۲ء۔جلد ۱۰۔نمبر ۴۵ - صفحه ۸) جس ملازمت میں سود لینے یا اس کی تحریک کرنے کا کام کرنا پڑتا ہو وہ میرے نزدیک جائز نہیں۔ہاں مگر ایسے بنک کے حساب کتاب کی ملازمت جائز ہے۔(الفضل ۷ / مارچ ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۹۵) سوال :۔دیہاتی بینکوں میں سرکاری ملازمت ملتی ہے جن کا تمام روپیہ سودی ہوتا ہے کیا جائز ہے؟ جواب :۔بینک کی ملازمت بے شک کر لیں۔( الفضل ۱۲ فروری ۱۹۱۶ء۔نمبر ۸۸) جس ملازمت میں سود کی تحریک کرنی پڑے وہ ناجائز ہے۔کلر کی اور حساب رکھنا بہ تسلسل ملازمت جائز ہے۔( الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ء - صفحه ۸ ) حالت اضطرار میں بھی سود منع ھے فمن اضطر غير باغ ولاعاد فلا اثم عليه۔فمن اضطر في مخمصة غير متجانف لاثم۔۔۔۔(الآية) بعض لوگوں کو اس اجازت کے حکم کو دیکھ کر دھو کہ لگا ہے اور انہوں نے اس کو وسیع کر لیا ہے۔چند ہی دن ہوئے کہ ایک شخص نے مجھ سے سود کے متعلق فتویٰ پوچھا تھا میں نے اسے لکھایا کہ سود کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا۔اب اس کا خط آیا ہے کہ بعض علماء کہتے ہیں اصل حالت میں تو یہ فتویٰ