فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 307

۳۰۷ معاملات جواب :۔فرمایا۔سود ہر حالت میں نا جائز ہے۔الفضل ۱۱ اپریل ۱۹۱۵ء نمبر ۱۲۵۔جلد ۲ صفحہ۱) سوال :۔بنک میں کچھ روپیہ جمع ہے جس کا سود ملتا ہے کیا کیا جائے؟ جواب :۔اگر واپس کر سکتے ہیں تو کر دیں ورنہ اگر لینا ہی پڑتا ہے تو لے کر اشاعت اسلام کی مد میں دے دیں۔سوال :۔کیا سودی قرضہ لے سکتا ہوں؟ الفضل ۳۱ / جنوری ۱۹۲۱ء نمبر۵۷ صفحه ۶)۔جواب :۔فرمایا۔ایک شخص بھوکا مرتا ہو اور سوائے سور کے گوشت کے اور کچھ نہ ملتا ہو تو اس کو جائز ہے کہ سور کا گوشت کھالے۔لیکن سود کی صورت میں جائز نہیں۔اس سے آپ سود کی حرمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔الفضل ار جنوری ۱۹۱۶ء۔جلد ۳ نمبر ۷۹ ) سوال:۔موجودہ زمانہ میں بنگ جو اپنی پارٹیوں کو (Over Draw) یعنی زائد رقم دیتے ہیں اور پھر اس پر کمیشن یا سود وصول کرتے ہیں۔کیا اس قسم کا روپیہ لینا جائز ہے؟ جواب :۔سود کسی صورت میں جائز نہیں البتہ اگر کسی حکومت کے ادارے یا دوسرے ادارہ کی طرف سے یا بنک کی طرف سے لازماً سود دیا جاتا ہو تو وہ اشاعت اسلام کے لئے خرچ کر دینا چاہئے۔(فائل مسائل دینی A-32) سوال : محترم حضرت نواب عبداللہ خان صاحب کی طرف سے استفسار ہوا، حکومت سے روپیہ تعمیر مکانات کے لئے قرض لیا جائے جس کی ادائیگی کے وقت حکومت کچھ زائد رقم لیتی ہے؟ جواب :۔فرمایا۔سود کا نام نہ آئے بلکہ نقد قیمت کی شکل دی جائے تو جائز ہے یعنی وہی مکان گروی ہو جائے پھر اس گردی پر روپیہ ملے یا اس کو فروخت سمجھا جائے اور کمپنی بعد میں قسط وار زیادہ رقم وصول کرے۔(فائل مسائل دینی DP 306/16۔11۔56-32-A)