فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 301

معاملات ب۔وصول کردہ منافع کی رقم اصل قرض سے وضع کی جائے گی۔(الفضل ۸/اگست ۱۹۶۲ء صفحه ۵) فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۸) قرض دیتے وقت اسے ضبط تحریر میں لانا ضروری ھے ولا تسئموا ان تكتبوا صغيرا او كبيرا الى اجله ) کی آیت میں ) دوسرا سبب قومی تنزل کا یہ بتایا ہے کہ لین دین کے معاملات میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا۔قرض دیتے وقت تو دوستی اور محبت کے خیال سے نہ واپسی کی کوئی میعاد مقرر کرائی جاتی ہے اور نہ اسے ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے اور جب روپیہ واپس آتا دکھائی نہیں دیتا تو لڑائی جھگڑا شروع کر دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ مقدمات تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور تمام دوستی دشمنی میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپس کے تعلقات کو خراب مت کرو اور قرض دیتے یا لیتے وقت ہماری ان دو ہدایات کو محوظ رکھو۔اول یہ کہ جب تم کسی سے قرض لوتو اس قرض کی ادائیگی کا وقت مقرر کر لو۔دوم۔روپیہ کا لین دین ضبط تحریر میں لے آؤ۔اس شرط کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اس طرح مقروض کو احساس رہتا ہے کہ فلاں وقت سے پہلے پہلے میں نے قرض ادا کرنا ہے اور وہ اس کی ادائیگی کے لئے جدو جہد کرتا رہتا ہے اور پھر ایک اور فائدہ یہ ہے کہ قرض لینے والا ایک معین میعاد تک اطمینان کی حالت میں رہتا ہے اور اسے یہ خدشہ نہیں رہتا ہے کہ نہ معلوم قرض دینے والا مجھ سے کب اپنے روپیہ کا مطالبہ کر دے۔غرض اس میں دینے والے کا بھی فائدہ ہے اور لینے والے کا بھی۔قرض دینے والے کا فائدہ تو یہ ہے کہ مثلاً ایک مہینے کا وعدہ ہے تو وہ ایک مہینہ کے بعد جا کر طلب کرے گا یہ نہیں کہ اس کو روز روز پوچھنا پڑے اور قرض لینے والے کا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ قرض لینے لگے گا تو سوچے گا کہ میں جتنے عرصے میں ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں، اتنے عرصہ میں ادا کر سکوں گا یا نہیں۔اس کے علاوہ یہ شرط اس لئے