فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 300

۳۰۰ معاملات ذمہ داری قبول نہیں کی بلکہ اپنے روپیہ کو قرض قرار دیا۔معاملہ کی یہ صورت مضاربت یعنی تجارت کی ہے۔قرض کی شرط فاسد ہے اور تجارت کا یہ معاہدہ صحیح ہے۔( الفضل ٢ / مارچ ۱۹۶۱ء صفحه ) فیصلہ افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۳۔نمبر ۴ ،الف) قرض پر منافع لینے کی شرط اگر کسی نے خالص قرض دیا ہو لیکن ساتھ منافع لینے کی شرط کی ہو تو قرضہ کی رقم کے بارہ میں شرعی حکم کیا ہے؟ فیصلہ:۔ایسی صورت میں اگر مقروض سے اصل رقم وصول ہو سکتی ہو۔ان معنوں میں کہ وہ رقم ادا کر سکتا ہے تو مقروض سے اصل رقم دلوائی جائے گی اور منافع معین کی شرط باطل ہوگی اور اگر نہ دے سکتا ہو تو قضاء قرضہ کی رقم نہیں دلوائے گی۔(الفضل ۲ / مارچ ۱۹۶۱ء صفحه ۴ ) فیصلہ افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۳۔نمبر ۵،الف) سوال :۔روپیہ بطور قرض لیا گیا۔تحریر میں قرض لکھا گیا۔معاوضہ یا نفع کا اس میں کوئی ذکر نہ ہوا۔اگر چہ روپیہ لیتے وقت قرض خواہ نے زبانی طور پر بلا مطالبہ مقرض، غیر معین منافع کالالچ دیا۔قرض خواہ نے کچھ عرصہ بعد کچھ رقم غیر معین منافع کے طور پر بلا مطالبہ منقرض کو دی۔مقرض نے وہ قبول کر لی۔اس کے بعد نقصان ہو گیا۔اور سارا روپیہ ضائع ہو گیا۔کیا روپیہ دینے والا (مقرض ) اس نقصان میں شریک ہوگا۔اگر شریک نہیں ہوگا تو وصول کردہ منافعہ کی کیا صورت ہوگی۔کیا وہ اصل رقم میں سے وضع کیا جائے گا یا نہیں؟ جواب :۔الف۔سوال میں معاہدہ کی جو شکل ذکر کی گئی ہے، مجلس افتاء کے نزدیک وہ قرض کی شکل ہے اور جائز ہے۔