فرموداتِ مصلح موعود — Page 268
۲۶۸ لونڈی اور غلام چار آزاد منکوحہ عورتوں کی موجودگی میں لونڈی رکھنا سوال: کیا اب بھی کوئی مسلمان چار آزاد عورتوں کے بغیر (علاوہ ) لونڈیاں رکھ سکتا ہے؟ جواب :۔اس وقت دنیا بھر میں مذہب بدلوانے کے لئے کوئی جنگ نہیں ہورہی۔اس لئے لونڈی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔پس یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔سوال :۔قیدی عورت اور لونڈی میں کیا فرق ہے؟ ایک عورت اسلام لا کر بھی لونڈی کی حیثیت میں رہ سکتی ہے تو پھر اسے آزاد کیونکر کہا جائے گا۔اگر آزاد عورت کا مقام دیا جائے تو چار سے زائد بیویاں رکھنے پر اسے طلاق دینی پڑے گی ؟ جواب :۔قیدی وہ جو سیاسی جنگ میں آئے اور لونڈی وہ جو ایسی جنگ میں قید ہو جس میں ایک فریق دوسرے سے اس لئے لڑے کہ اس کا مذہب بدلوانا چاہے۔الفضل ۲۳ /اگست ۱۹۴۴ء - جلد ۳۲ نمبر ۱۹۱ صفحه۲) سوال :۔کیا آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈیوں کے ساتھ تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں؟ کیا قرآن کریم نے لونڈیوں کے ساتھ نکاح کو ضروری قرار دیا ہے؟ کیا لونڈی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جبراً تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں؟ جواب: لونڈی کے ساتھ نکاح ضروری ہے مگر طریقہ نکاح مختلف ہے۔اور اگر لونڈی چاہے کہ الگ ہو جائے اور وہ کسی شخص کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو وہ شریعت کے مطابق فور امکا تبت کی درخواست کرے۔مکاتبت کے بعد کوئی شخص اس کو نہیں رکھ سکتا۔( فائل مسائل دینی نمبر 1۔DP6269/15۔1۔51) سوال :۔شریعت میں چار بیویاں ایک ہی وقت میں مساوات کے ساتھ رکھنا جائز ہیں مگر مابعد اس کے جو خادمہ زرخرید رکھی جاتی ہے آیا ان سے بلا نکاح مباشرت کرنی جائز ہے۔اگر جائز ہے تو زانیہ اور اس میں کیا تفاوت ہے؟