فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 269

۲۶۹ لونڈی اور غلام جواب:۔کوئی فرق نہیں۔زرخرید کرنا پہلا گناہ ہے۔اس سے مباشرت کرنا دوسرا گناہ ہے۔قرآن کریم میں لونڈیوں کا ذکر ہے وہ بالکل اور ہیں آج کل وہ ہیں ہی نہیں۔الفضل ۱/۸ اکتوبر ۱۹۴۵ء - جلد ۳۳ نمبر ۲۳۵ صفحه ۲) سوال :۔اگر یہ جائز ہے تو خادمہ کی اولاد کو ورثہ جائداد کیوں نہیں ملتا۔کیا وہ اولاد اپنے باپ کو باپ کہنے کی مستحق نہیں ہے۔اگر اس کو شرعا باپ مانا جاتا ہے تو پھر اس کو اس کی جائیداد سے کیوں محروم کیا جاتا ہے؟ جواب :۔اوپر جواب آچکا ہے مگر آپ کی دلیل غلط ہے۔الفضل ۱/۸ کتوبر ۱۹۴۵ء - جلد ۳۳ نمبر ۲۳۵ صفی ۲) موجودہ دورمیں ہندو مسلم جنگ کی صورت میں هندو عورتوں کولونڈی بنانا سوال :۔آج کل ہندومسلم جنگوں کے نتیجہ میں جو عورتیں آتی ہیں کیا ان سے تعلق جائز ہے؟ جواب:۔اس کو جنگ کون قرار دیتا ہے۔کیا جنگ میں لڑنے والے کو بعد میں پھانسی دی جاتی ہے؟ مگر یہاں تو پھانسی ملتی ہے۔جنگ تو ایک حکومت کے دوسری حکومت کے خلاف با قاعدہ طور پر نبرد آزما ہونے کو کہتے ہیں نیز اسلام نے ایسے تعلقات کی جو اجازت دی ہے وہ ہر جنگ میں نہیں بلکہ صرف جہاد میں ہے۔دراصل اس جنگ میں جو عورتیں لونڈی بنائی جاتی ہیں ان سے بھی تعلق اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوتا۔اور چونکہ وہ لونڈی ہوتی ہے اس لئے عام اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔باہم رضامندی کافی ہے اور اس کے حقوق بھی بیویوں کے سے ہوتے ہیں بلکہ اسلام نے ایسی عورت کو یہ بھی حق دیا ہے کہ مکاتبت کر کے آزاد ہو جائے۔الفضل ۳ جولائی ۱۹۴۷ء۔جلد ۳۵ نمبر ۱۵۶ صفحه ۲)